آپریشن بدر کا مجھے علم نہیں، ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب زیادہ پھینٹی لگانا نہیں خواجہ آصف

سافٹ اسٹیٹ کا مطلب جہاں آئین قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہوں، اب ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب مضبوط ریاست کے طور پر اپنا امیج بنانا ہے
پی ٹی آئی والوں کو بھی عید مبارک ہو،اس بار دھاوا اور احتجاج نہیں ہونا چاہئے، لوگوں نے بھی عید کی خوشیاں منانی ہیں اس کیلئے امن بھی چاہیے

 اسلام آباد(آئی  این پی )وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے  آپریشن بدر کا مجھے علم نہیں، ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب زیادہ پھینٹی لگانا نہیں ہے،سافٹ اسٹیٹ کا مطلب جہاں آئین قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہوں، اب ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب مضبوط ریاست کے طور پر اپنا امیج بنانا ہے۔ ایک انٹرویو میں  انہوں نے   کہا کہ دنیا میں پاکستان کیلئے سافٹ اسٹیٹ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، سافٹ اسٹیٹ کا مطلب جس میں آئین قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہوں، یعنی ریاست جس میں آئین قانون اور سسٹم کے تحت چلتی ہے۔سافٹ اسٹیٹ کا مطلب   ہے قانون اور فورسز کمزور ہوچکی ہیں، اب ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب مضبوط ریاست کے طور پر اپنا امیج بنانا ہے، سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں کسی آپریشن کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب زیادہ پھینٹی لگانا نہیں ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آپریشن بدر کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔قومی سلامتی کمیٹی میں ایسے کسی آپریشن کی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تمام شرائط عمران خان کے گرد گھومتی ہیں، ان کا رہا کردیں، باہر لائیں اور پھر رہا کردیں۔پی ٹی آئی کی شرائط ہوتی ہیں کہ عمران خان کو ریلیف دیں اور باہر نکلالیں۔ایسا ماحول پاکستان میں پہلے کسی قیدی سے متعلق نہیں دیکھا گیا۔  انہوں نے  بلاول بھٹو نے بیان دیا کہ سکیورٹی کمیٹی کی دوسری میٹنگ بھی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا  پی ٹی آئی احتجاج کرنا چاہتی ہے تو ضرور کرے، جس طرح پہلے 3 بار اسلام آباد پر حملہ کیا، اس طرح کا دھاوا اور احتجاج نہیں ہونا چاہیے۔ایک انٹرویو میں  خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کو عید کی پیشگی مبارکباد دے دے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کو بھی عید مبارک ہو، پی ٹی آئی احتجاج کرنا چاہتی ہے تو ضرور کرے، پی ٹی آئی نے 3 بار اسلام آباد پر حملہ کیا۔وزیردفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس بار دھاوا اور احتجاج نہیں ہونا چاہئے، کسی کے حقوق پر ضرب آ رہی ہے تو احتجاج کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ لوگوں نے بھی عید کی خوشیاں منانی ہیں اس کے لیے امن بھی چاہیے، امن بہت ضروری ہے۔