مذاکرات بہانا، مجھے معلوم تھا حکومت نے گورنر راج لگانا ہے، شوکت یوسفزئی

 دہشتگردی کے خلاف تعاون سے انکار نہیں کیا، لانگ مارچ کیلئے ہمارے سامنے کوئی منصوبہ نہیں تھا
اسلام آباد(آئی این پی )پی ٹی آئی  خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات سب بہانے تھے،  مجھے  پہلے سے معلوم تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا ہے۔ ایک انٹرویو میں   شوکت یوسفزئی نے کہا کہ انہوں نے جو کہا تھا، اب وہ ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خلاف تعاون سے کبھی انکار نہیں کیا، ہم نے پولیس کو ایک سال میں 190 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا موقف تھا کہ دہشت گردی جیسے اہم معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔شوکت یوسفزئی نے کہا  حکومت کے ساتھ مذاکرات محض بہانے تھے جبکہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا   تیکنیکی طور پر اب خیبر پختونخوا کے دو صوبے بنا دئیے گئے ہیں، بارہ اضلاع کو الگ کر دیا گیا ہے۔جو چارج شیٹ دی گئی ہے اس میں بتائیں کون سا وہ آپریشن ہوا جس کی صوبائی حکومت نے اجازت نہیں دی۔ ہم مذمت بھی کر رہے تھے، تعاون بھی کر رہے تھے۔ ہمارا مسئلہ سب سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا تھا۔    لانگ مارچ غیر قانونی کام نہیں تھا ،جب سے فیصل کریم کنڈی کو چارج ملا ہے چھاپے مارے جا رہے ہیں، میرے گھر پر دو چھاپے مارے گئے ہیں۔لانگ مارچ سے متعلق  شوکت یوسفزئی نے اعتراف کیا کہ مارچ کیلئے  ان کے سامنے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔