ریاض: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں فیصل بن فرحان السعود اس ہفتے دو روزہ سرکاری دورے پر چین جائیں گے، جہاں وہ وانگ یی سمیت چینی اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان منگل سے بدھ تک بیجنگ میں قیام کریں گے۔ یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جس کے دوران دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت اور تکنیکی مذاکرات کے باوجود حالیہ دنوں میں جوابی حملوں اور سکیورٹی خدشات نے خطے میں بے یقینی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فروری میں شروع ہونے والی کشیدگی کے دوران ایران نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی رکھنے والے بعض خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا تھا، جبکہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات کے باعث تیل کی ترسیل اور بحری تجارت بھی متاثر ہوئی، جس کے اثرات سعودی عرب سمیت خطے کے کئی ممالک پر پڑے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا دورۂ چین نہ صرف سعودی عرب اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن، توانائی کے تحفظ، بحری تجارت کے استحکام اور سفارتی تعاون کے فروغ کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔