فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز کونشانہ بنایاگیا، ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری
واشنگٹن،تہران (آئی این پی ) امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز پاناما کے پرچم بردا رجہاز پر ڈرون حملے کے بعد ایران پر نئے حملے کیے ہیں جس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ کویت اور بحرین میں امریکہ کے آٹھ فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے ہیں۔ عالمی میڈیارپورٹس کے مطا بق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام ) کا کہنا ہے کہ اس نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف مسلسل جارحیت کے جواب میں ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔ سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کو جنگ بندی معاہدے کی پابندی کا موقع دیا گیا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور پانامہ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی کیکو پر ڈرون حملہ کیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز میں پانامہ کے پرچم بر دار ٹینکر جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں ایران میں متعدد فوجی اہداف پر فضائی کارروائی کی ہے۔ فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا،کارروائیاں صدر ٹرمپ کی ہدایت پرکی گئی ہیں۔امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر حملے کی ویڈیو بھی جاری کردی۔ ۔ ادھر ایران پر امریکا کے فضائی حملے اور ایران کے جوابی حملوں کے بعد امریکی عہدیدار نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے بحرین اور کویت سمیت پڑوسی ممالک پر متعدد ڈرون اور میزائل داغے، مشرق وسطی میں امریکی فوجی اہلکاروں کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں، حملے میں امریکی تنصیبات کو کسی بڑے نقصان کی بھی کوئی اطلاع نہیں۔ تازہ حملوں کے اعلان کے فورا بعد امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ بہت ممکن ہے کہ تہران کبھی سبق نہیں سیکھے گا