شہباز حکومت اور ابھرتا پاکستان

 میاں محمد منیر۔
دنیا کی سیاست میں قوموں کا مقام محض نعروں سے نہیں بنتا، اس کے پیچھے برسوں کی سفارت کاری، معاشی استحکام، دفاعی قوت اور درست وقت پر درست فیصلے کارفرما ہوتے ہیں۔ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کا ایک اہم مظہر ہے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ سعودی عرب کی معاشی قوت، ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اور پاکستان کی عسکری صلاحیت و تجربہ مل کر ایک ایسے دفاعی فریم ورک کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس پر آج پوری دنیا کی نگاہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کی بھرپور حمایت بھی اس کی عالمی اہمیت کی عکاس ہے۔ ٹرمپ نے اسے ایک بڑا، جرات مندانہ اور اہم ابتدائی قدم قرار دیا، جبکہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے ان کے حوصلہ افزا کلمات کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر نہ صرف اپنے ممالک بلکہ پورے خطے کے دفاع اور سلامتی میں تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

اصل بات یہ ہے کہ مکہ معاہدے کو صرف ایک دفاعی دستاویز تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ پاکستان کے اس بڑھتے ہوئے عالمی وقار کی علامت ہے جو گزشتہ کچھ عرصے میں نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کے بارے میں دنیا میں زیادہ گفتگو معاشی بحران، دہشت گردی یا سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے ہوتی تھی۔ آج پاکستان عالمی تنازعات میں مذاکرات کی میز سجانے، مخالف فریقوں کو قریب لانے اور امن کی کوششوں میں شریک ہونے والے اہم ملک کے طور پر بھی زیرِ بحث ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی پاکستان کی حالیہ سفارتی واپسی اور بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کو نمایاں کیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی اس تبدیلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات ہوئے اور پاکستان کی امن کوششوں نے جنگ بندی کے عمل میں کردار ادا کیا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے تعمیری کردار کو سراہا۔ یہ معمولی سفارتی کامیابی نہیں۔ دنیا کے دو سخت حریف اگر پاکستان کو قابلِ اعتماد رابطہ کار سمجھیں تو اس کا مطلب ہے کہ اسلام آباد کی بات دوبارہ عالمی دارالحکومتوں میں وزن حاصل کررہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی خارجہ پالیسی کا قابلِ ذکر پہلو یہی دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن، بیجنگ، ریاض، انقرہ، تہران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔ خارجہ پالیسی میں کامیابی کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ ریاست کسی ایک کیمپ میں محدود ہونے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے مطابق مختلف طاقتوں سے کام کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔

اس پورے منظرنامے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے امریکا، سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط اور مشکل علاقائی حالات میں سفارتی و عسکری رابطہ کاری نے پاکستان کے لیے نئے دروازے کھولے ہیں۔ رائٹرز نے بھی حالیہ پاکستانی سفارتی پیش رفت میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان پالیسی ہم آہنگی کو اہم عنصر قرار دیا ہے۔

مکہ معاہدے کے بعد بھارت کی تشویش بھی معنی خیز ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ کہا کہ نئی دفاعی صف بندی کے بھارتی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جسے بھارت طویل عرصے سے عالمی سطح پر تنہا دکھانے کی کوشش کرتا رہا، مگر آج وہی پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ نئے دفاعی نظام کا مرکزی حصہ اور مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری میں فعال کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اسی طرح او آئی سی اور متعدد مسلم ممالک کی جانب سے معاہدے کا خیرمقدم اس امر کا اظہار ہے کہ مسلم دنیا اپنی سلامتی کے معاملات میں زیادہ منظم تعاون کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ اتحاد لازماً نیٹو جیسی مکمل تنظیم اختیار کرلے گا، تاہم پاکستان کے وزیر خارجہ واضح کرچکے ہیں کہ یہ دفاعی فریم ورک دوسرے ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔  مستقبل میں اس دائرے کی توسیع ہوتی ہے تو مکہ معاہدہ مسلم دنیا کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔

عالمی وقار صرف سربراہی اجلاسوں اور معاہدوں سے مکمل نہیں ہوتا۔ اس کا اصل فائدہ تب سامنے آتا ہے جب پاکستانی پاسپورٹ کی عزت بڑھے، سرمایہ کاری آئے، روزگار پیدا ہو اور عام پاکستانی کی زندگی بہتر ہو۔ گرین پاسپورٹ کا وقار دراصل ریاست کی معاشی طاقت، سیاسی استحکام اور دنیا میں اس کی قابلِ اعتماد حیثیت سے جڑا ہوا ہے۔ موجودہ سفارتی رفتار اگر معاشی اصلاحات کے ساتھ برقرار رہی تو اس سمت میں بڑی پیش رفت ممکن ہے۔

وفاقی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کے ساتھ صوبائی سطح پر بھی کارکردگی ناگزیر ہے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صفائی، 
ماحول دوست ٹرانسپورٹ، صحت، رہائش، نوجوانوں اور شہری سہولیات کو اپنی حکومت کی ترجیحات بنایا ہے۔ پنجاب کو صاف، سرسبز اور بہتر انتظام والا صوبہ بنانے کی کوشش اگر مسلسل جاری رہی تو بیرونِ ملک پاکستانیوں سمیت دنیا کے سامنے پاکستان کا مجموعی تشخص بھی بہتر ہوگا۔

قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف برسوں پہلے پاکستان کو ’’ایشین ٹائیگر‘‘ بنانے کی بات کرتے تھے۔ آج امکانات اس تصور سے بھی آگے جا سکتے ہیں، لیکن شرط وہی ہے: سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور معاشی نظم۔ پاکستان ابھی قرض دینے والا ملک نہیں بنا، مگر قومیں ہمیشہ ایک مقام پر نہیں رہتیں۔ اگر برآمدات، صنعت، آئی ٹی، زراعت، دفاعی پیداوار اور سرمایہ کاری کا سفر مسلسل آگے بڑھے تو وہ دن بھی آسکتا ہے جب پاکستان قرض مانگنے والوں کی صف کے بجائے سرمایہ فراہم کرنے والے ممالک میں کھڑا ہو۔

یہ وقت ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا نہیں بلکہ پاکستان کو آگے لے جانے کا ہے۔ اختلاف اور احتساب جمہوریت کی ضرورت ہیں، لیکن قومی مفاد میں طویل المدتی پالیسیوں کو چلنے کا موقع بھی دینا ہوگا۔ کچھ اور صبر، کچھ اور محنت اور نظام میں تسلسل درکار ہے۔

مکہ معاہدے کا سب سے بڑا پیغام شاید یہی ہے کہ پاکستان دوبارہ سنا جا رہا ہے، پاکستان کی اہمیت دوبارہ تسلیم کی جا رہی ہے اور عالمی معاملات میں پاکستان کا قد بلند ہورہا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ اس سفارتی عزت کو معاشی طاقت، عوامی خوشحالی اور گرین پاسپورٹ کے حقیقی وقار میں کیسے بدلا جائے