واقعہ کربلا: حق و باطل کا معرکہ

ثمینہ سعید

اے کربلا کی خاک! اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاشِ جگر گوشہ بتول
واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن باب ہے۔ یہ محض دو گروہوں کے درمیان جنگ نہیں تھی بلکہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، اور اصول و مفادات کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا۔ حضرت امام حسین نے اپنے نانا حضرت محمد  کے دین کی حفاظت، امت کی اصلاح اور ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے قربانی دی۔
یزید کی حکومت ایک ایسی طرزِ حکمرانی کی نمائندہ بن چکی تھی جو اسلامی اصولوں سے دور ہو رہی تھی۔ حضرت امام حسین نے اس باطل نظام کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کا علم بلند کیا۔ آپ نے فرمایا کہ میرا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا ہے۔
کربلا کے میدان میں امام حسین، آپ کے اہلِ بیت اور رفقاء￿  نے بے مثال صبر، استقامت اور قربانی کی مثال قائم کی۔ بھوک، پیاس اور شدید مصائب کے باوجود انہوں نے حق کا دامن نہیں چھوڑا۔ حضرت امام حسین کی شہادت نے یہ پیغام دیا کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایک مومن حق کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔واقعہ  کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے۔ حق کی سربلندی اور دین کی حفاظت کے لیے قربانی دینا ہی حسینی کردار ہے۔ آج بھی امتِ مسلمہ کو کربلا کے پیغام سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے عدل، انصاف اور حق کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسین  اور شہدائے کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے، حق کو پہچاننے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔