تاریخ، طاقت اور خودی کا معرکہ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کی دبیزچیرہ دستیوں نے جب برِصغیرکی پیشانی پرتقسیم کی لکیرکھینچی تھی،تواس کے ساتھ ہی مقدرکے اوراق پرایک نہ ختم ہونے والی کشمکش بھی ثبت ہوگئی۔سرحدوں کے اس پار بکھرے ہوئے خواب،ادھوری کہانیاں،اورخونچکاں یادیں آج بھی نسلوں کے حافظے میں آہیں بن کرگونجتی ہیں۔پاکستان اورہندوستان کاتعلق محض دوریاستوں کاباہمی معاملہ نہیں ،یہ تاریخِ ہندوپاک کاوہ رزمیہ باب ہے جس میں آنسوبھی ہیں،فخربھی ہے،شکوہ بھی ہے اورامیدبھی۔
آج جب عالمی سیاست کی شطرنج پرنئی چالیں کھیلی جارہی ہیں،کبھی واشنگٹن کی بساط بچھتی ہے اورکبھی بیجنگ کے ایوانوں میں فیصلوں کی گونج سنائی دیتی ہے،تویوں محسوس ہوتاہے کہ برصغیرکے زخم ابھی بھرے نہیں؛محض مرہم بدلتے رہتے ہیں۔ثالثی کے نام پرآنے والی آوازیں کبھی ہمدردی کی صورت،کبھی بالادستی کی صورت اورکبھی طاقت کے کرخت لہجے میں سنائی دیتی ہیں۔
سوال مگراپنی جگہ قائم ہے:کیاقوموں کی تقدیرکانفرنسوں کے قالینوں پرلکھی جاتی ہے؟یایہ تقدیران دلوں کے حوصلوں سے جنم لیتی ہے جواپنی تاریخ کے بوجھ اور اپنی ذمہ داری کے شعورسے آشناہوں؟یہ مقالہ اسی داستان کی گرہیں کھولنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے جہاں الفاظ محض بیان نہیں، عہدِ رفتہ کی دھڑکنوں کی ترجمانی ہیں؛جہاں سیاست کاخشک تجزیہ بھی جذبات کی نمی سے خالی نہیں اورجہاں تاریخ صرف ماضی نہیں،مستقبل کی دہلیزپردستک بھی ہے۔
جنوبی ایشیاکی سیاست ہمیشہ سے تزویراتی کشمکش،قومی بیانیوں،تاریخی تنازعات اورعالمی طاقتوں کے اثرونفوذسے مرکب رہی ہے۔ پاکستان اوربھارت کے درمیان تنازع خصوصا ًکشمیرکامسئلہنہ صرف دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کامحوررہاہے بلکہ عالمی قوتوں کیلئے بھی دلچسپی کامرکزبنارہا۔ایسے میں جب ٹرمپ نے ثالثی کادعویٰ کیااوراس کے بعدچین نے بھی اسی نوعیت کابیان دیا،تویہ معاملہ محض سفارتی الفاظ کاکھیل نہ رہابلکہ علاقائی طاقت کے توازن اورخودمختاری کے سوال سے جاٹکرایا۔اس مقالے میں انہی بیانات کے سیاسی وسفارتی اثرات کاعلمی مطالعہ پیش کیاجاتاہے،اوراس امرکی نشاندہی کی جاتی ہے کہ ثالثی کایہ سلسلہ محض حسنِ نیت کااظہارنہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کامظہربھی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اورہندوستان کے مابین جنگ بندی کرانے کے دعوؤں نے اگرمودی کیلئے سیاسی بساط پرپہلے ہی ایک پیچیدہ گرہ ڈال رکھی تھی تواب اسی نوعیت کا دعویٰ جب چین کی وادی خموشاں سے گونجاتواس نے اس گرہ کومزیدالجھادیا۔چینی وزیر خارجہ کے اس تازہ بیان نے،جس میں انہوں نے مئی کے تناظرمیں دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین ثالثی کی بات کہی،سفارتی فضامیں ایک نئی ہلچل پیداہوگئی۔تاریخ نے ایک مرتبہ پھرطاقت کے ایوانوں میں یہ سرگوشی بلندکی کہ جنوبی ایشیاکی سیاست محض سرحدی خط کھینچنے کانام نہیں،بلکہ مفادات کی ایسی شطرنج ہے جہاں ہرچال کئی معنی رکھتی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کادعویٰ دراصل اس بات کااظہارتھاکہ امریکاجنوبی ایشیا کے تنازع میں اپنی موجودگی کوبرقراررکھناچاہتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹرمپ پہلے ہی ثالثی کا دعوی کرچکے تھے،جسے اقوام عالم اورخودبھارت کے اندرتمام سیاستدان مودی کی خاموشی کوٹرمپ کے بیان کی تصدیق سمجھتے ہیں۔اب چین کی جانب سے اسی نوعیت کابیان آنا مودی حکومت کیلئے نئی مشکل بن گیاہے۔چین کے تازہ دعوے نے یہ واضح کیاکہ اب اس خطے میں طاقت کاایک نیامحورتشکیل پارہاہے۔چین کی طرف سے کہاگیاکہ مئی میں پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اس نے کرداراداکیا۔اس بیان نے نہ صرف سفارتی سطح پرنئی بحث چھیڑدی بلکہ بھارت کی داخلی سیاست میں بھی ہلچل پیدا کی۔جنوبی ایشیااب صرف دوطرفہ تنازعات کی حدودمیں مقیدنہیں رہا،بھارت مستقل یہ مؤقف دہراتارہاہے کہ کشمیراورپاکستان سے متعلق تمام مسائل دوطرفہ ہیں،کسی تیسرے فریق کی مداخلت قابلِ قبول نہیں ۔
عظیم طاقتیں ثالثی کے پردے میں اپنے مفادات کے جال بچھارہی ہیں۔چین کادعوی اس مؤقف کوچیلنج کرتاہے،یہ دعوی بھارت کیلئے داخلی سیاست میں بھی ایک مشکل بن گیا ہے کیونکہ اپوزیشن سوال اٹھاتی ہے،حکومت کی پالیسی پرشکوک پیداہوتے ہیں،سفارتی شفافیت پربحث چھڑتی ہے۔بھارت کیلئییہ چیلنج ہے کہ وہ اپنے دیرینہ ہٹ دھرمی کوکیسے برقراررکھے،لہذا چین کے بیان نے محض بین الاقوامی نہیں بلکہ اندرونی سیاسی ہلچل بھی پیداکردی ہے۔
چینی بیان سامنے آتے ہی بھارت میں اپوزیشن کی آوازبلندہوئی۔کانگریس نے وضاحت کامطالبہ کیااوروزارت خارجہ کی خاموشی سوال بن گئی۔اس مسئلے نے سیاسی بساط پرتین چالیں ایک ساتھ چلائیں:حکومت پرشفافیت کے مطالبے میں اضافہ،قومی سلامتی کے بیانیے کی آزمائش اورخارجہ پالیسی کی سمت پرعوامی بحث کے مطالبوں نے زورپکڑلیاہے۔یہ صورتحال اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ خارجہ پالیسی صرف سفارتی خانوں میں طے نہیں ہوتی بلکہ جمہوری معاشروں میں سیاسی جواب دہی کاحصہ بھی بن جاتی ہے۔
چینی دعوے کے بعدہندوستان کے سیاسی ایوانوں میں سوالوں کی کڑیاں درکڑی جڑتی گئیں۔اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت سے وضاحت کامطالبہ کیااوروزارت خارجہ کی خاموشی نے اس سوال کومزیدگہراکرکے اسے محض سیاسی بحث نہیں رہنے دیابلکہ قومی حکمتِ عملی کا سوال بنادیا۔گویااپوزیشن کی زبان پریہ شکوہ تھاکہ"خاموشی بھی کبھی کبھی اعتراف بن جایاکرتی ہے۔
اس نکتے میں دواہم باتیں ہیں،اپوزیشن سوال کررہی ہے،وزارتِ خارجہ خاموش ہے،اس خاموشی کے چند اسباب ہوسکتے ہیں:حکومت معاملہ طول نہیں دیناچاہتی،اس بیان کی تردیدکرناچین سے تعلقات پراثر ڈال سکتاہے،قبول کرناپالیسی کی تردیدبن جائے گا۔اسی لیے اپوزیشن کیلئییہ ایک سیاسی موقع ہے،حکومت سے قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کو تنقیدکانشانہ بناکرحکومت سے شفاف جواب مانگاجائے۔
کانگریس کے رہنماجے رام رمیش نے بجا طورپرایک اعتراض اٹھایاکہ اگرچین کی طرف سے ثالثی کایہ دعوی درست ہے تویہ نہ صرف سابقہ سرکاری مؤقف کی نفی ہے بلکہ قومی سلامتی کے حساس باب پرطنزکابھاری بھرکم طمانچہ بھی بن جاتاہے اورقومی سلامتی کاباب یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتا،وہاں ہرلفظ تلوارکی دھارپررکھاجاتاہے۔جے رام رمیش کے بیان میں تین باتیں پوشیدہ ہیں،یہ دعوی سرکاری مقف سے متصادم ہے،عوام کواصل صورت حال نہیں بتائی گئی، قومی سلامتی کوسیاسی کھیل نہ بنایاجائے۔ان کااصل مدعایہ تھاکہ اگرثالثی ہوئی توبھارت کے دیرینہ مؤقف کاکیاہوا؟عوام کوبتایاجائے، اگرنہیں ہوئی توچین ایسادعویٰ کیوں کررہاہے؟اگرنہیں ہوئی توواضح تردیدکیوں نہیں آئی؟چین کادعویٰ خاموشی کے ساتھ رہ جائے تویہ ریاستی مؤقف کی ساکھ کومتاثرکرتاہے۔یہاں خودمختاری کاسوال مرکزی ہے۔کسی بھی ریاست کیلئے ثالثی قبول یاردکرنامحض سفارتی عمل نہیں بلکہ قومی وقارسے جڑاہوتاہے۔چین کادعوی بھارت کے اسی وقارکے امتحان کے طورپردیکھاجارہاہے۔
اسی سلسلے میں آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین کے صدراسدالدین اویسی نے بھی اپنی مخصوص بے باکی کے ساتھ سوال اٹھایاکہ ایک طرف چین پاکستان کواسلحہ فراہم کرکے عسکری ترازوکاپلڑاجھکاتاہے اوردوسری جانب ثالثی کے منصب پرجلوہ افروزہونے کاخواہاں ہے۔ان کے مطابق یہ طرزِعمل اس مسافرکی مانندہے جوجنگل کوآگ بھی لگائے اورپھرخود کوبارانِ رحمت کاپیامبربھی کہلوائے ،یہ بیک وقت ممکن نہیں۔
سوال یہ ہے کیاچین کابیانیہ عالمی ثالث کے طورپرابھرتاہواکردارہے؟چین نے اپنی تقریرمیں واضح کیاکہ اس نیایران جوہری مسئلہ، ایران سعودی عرب میں یمن کی جنگ،میانمار تنازع، فلسطیناسرائیل معاملہ،کمبوڈیاتھائی لینڈکشیدگی جیسے مسائل میں کرداراداکیا۔یہ اعلان محض اطلاع نہیں بلکہ طاقت کااظہارہے۔چین اب خودکواقتصادی وعسکری قوت، سفارتی ثالث،تینوں حیثیتوں میں منواناچاہتاہے۔
چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نے بین الاقوامی صورتحال پرمنعقدہ سمپوزیم میں’’ہاٹ اسپاٹ‘‘تنازعات کی فہرست میں بھارت وپاکستان کشیدگی کابھی ذکرکیا۔چین نے یہ بات واضح کی،وہ دنیاکے مختلف تنازعات میں کرداراداکررہاہے۔پاکستان وبھارت کشیدگی بھی اس فہرست میں شامل ہے۔انہوں نے اسے چین کی سفارتی مساعی کاحصہ قراردیا۔یہ بیان دراصل چین کوعالمی ثالث کے طورپرپیش کرنا، سفارتی امیج کومضبوط بنانا،اپنی بڑھتی طاقت کااظہارکرناہے۔گویایہ بیان یہ بیان دراصل چین کوعالمی ثالث کے طورپرپیش کرنا، سفارتی امیج کومضبوط بنانا،اپنی بڑھتی طاقت کااظہارکرناہے۔اس سے یہ تاثرابھراکہ چین صرف علاقائی طاقت نہیں بلکہ عالمی سیاسی بساط کا سرگرم کھلاڑی ہے۔عالمی برادری کی محفل میں چین کایہ کھلاپیغام ہے کہ ایشیاکی سیاست کامحوربدل رہاہے اوربیجنگ محض تماشائی نہیں بلکہ کرداربن چکاہے۔
وانگ یی کے مطابق دنیانئی کشیدگیوں سے گزررہی ہے،علاقائی جنگوں میں اضافہ ہواہے،طاقت کاتوازن مسلسل بدل رہاہے۔اس سال دنیا میں تنازعات کی لودوسری عالمی جنگ کے بعدشایدسب سے بلندرہی۔(جاری ہے)