کربلا اور ایران

سید منیر حسین گیلانی
 محرم الحرام کے ایام جاری ہیں۔قیام امام حسین علیہ السلام اور تحریک کربلا نے ہر دور میں مظلوموں کو تقویت دی۔آج دنیا بھر میں اگر کہیں بھی ظلم کے خلاف تحریکیں اٹھتی ہیں تو اس کادرس کربلا ہی سے لیا گیا ہے،جو ظلم کے خلاف لڑنے اور قربانی پیش کرنے کی رہنمائی کرتا ہے۔ 61ہجری میں رونما ہونے والے واقعہ کربلا نے صرف دنیائے اسلام ہی نہیں،پوری بنی نوع انسان پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں ، کہ آج بھی ہر غیرت مند شخص کربلا سے خود کو وابستہ کرتااورشہدائے کربلا کی یاد مناتا ہے۔ اس حوالے سے کسی مذہب اور مسلک کی قید نہیں ،بس اس کا انسان ہونا ضروری ہے۔ ایرانی قوم کی فطرت میں کربلا سے رہنمائی لینا قابل ستائش اور قابل فخرہے ، جس کی وجہ سے انہوں نے عالمی استکبار سے مقابلہ کیا اور ثابت کیا کہ انسانی جان کی نہیں، قیمت انسان کے اصولوں پر قائم رہنے ، ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور عزت وآبرو کا تحفظ ہے۔ پھر ظلم کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کرنے کا درس بھی کربلا کی شیر دل خاتون حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے ملتا ہے، جنہوں نے واقعہ کربلا کے بعد امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہونے والے ظم کی دنیا پر تشہیر کی،امت مسلمہ کو بتایا کہ یزیدی قوتوں نے کس طرح نواسہ رسول کو خاندان رسالت کے ساتھ شہید کردیا۔ اس طرح ظالم و جابر حکمران کا پراپیگنڈہ کارگر ثابت نہ ہوسکا۔بس آپ کو کار زینبی سرانجام دینا ہوگا۔امریکہ کے ایرانی سکول میناب پر 168 طالبات کو شہید کرنے کے ظلم پر رد عمل میں دنیا کے مہذب کہلانے والے ممالک نے مذمت کی اور نہ ہی شہداء￿  کے ورثا سے اظہار تعزیت کیا،ان میں اکثر مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔کسی نام نہاد یورپی،انسانی حقوق کی پاسداری کے دعویدار امن پسند ممالک میں سے بھی کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوتے اور ظلم کی مذمت کرتے، حالانکہ خود کو مہذب معاشرے کہلانے والوں نے بھی ظلم کی مذمت کی ،اور نہ ہی انصاف پر مبنی رد عمل دیا۔ایرانی قوم نے آج کے حالات کو کربلا سے منسلک کرتے ہوئے ہر موقع پر اپنے جذبات اور محبت کااظہار مختلف مواقع پر عوامی اور سرکاری سطح پر عجیب و غریب طریقے سے کیا۔پاکستان کی انتھک اور مخلصانہ کاوشوں سے ہر دو متحارب ممالک کے درمیان اسلام آبادمیں مذاکرات ہوئے تواس موقع پرایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے مقتول بچیوں کی تصویریں اور ان کے سکول بیگ جہاز کی سیٹوں پر لے کر آئے۔ انہوں نے ویڈیو بنائی اور کہا کہ یہ مقتول بچیاں مذاکرات میں ان کی ساتھی ہوں گی۔ اس طرح انہوں نے پوری دنیا کے سامنے امریکی بربریت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کیا۔پھر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی شمولیت میں بھی ایک بار پھر پاکستان کا متحرک مخلصانہ کردار ابھر کر آیا، جس میں جناب فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی نے تہران میں بیٹھ کر ایرانی قیادت کو ٹرمپ کی اشتعال انگیز دھمکیوں کے 
باوجود انہیں مذاکرات میں شرکت پر آماد ہ کیا۔یہاں بھی ایرانی قیادت کا طیارہ عالمی میڈیا کی نگاہ کا مرکز تھا، جس پرمیناب سکول کی بچیوں کا ذکر تھا۔اسی طرح فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی فٹبال ٹیم نے شہید بچیوں کی تصاویر اٹھا کر کھیل کے میدان میں اتری ،جبکہ امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ دنیا پر اس کے غیر انسانی جرائم کھل کر دنیا کے سامنے آئیں، جس کے رد عمل میں امریکہ نے ایرانی کھلاڑیوں کو کھیل ختم ہونے کے بعد اپنے ملک میں قیام کی اجازت نہیں دی اور انہیں میکسیکو میں جا کر رات گزارنا پڑی۔ یہاں میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں کی شہادت کو زندہ کرنے کے لیے ہمیشہ ایک زندہ کردار نظر آتا ہے کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کا سفر یزیدی پہرے میں کیا اور لوگوں کو ہر جگہ بتایا گیا کہ شہدائے کربلا حاکم شام کے باغی ہیں، اس لئے ان کو پابند سلاسل کیا گیا ہے۔اس طرح کربلا سے کوفہ اور شام تک کا سفر خاندان رسالت کو حالت قید میں لایا گیا۔ آج بھی اس مظلومانہ شہادت نے ظالم اور مظلوم کے درمیان ایک خط کھینچ دیا ہے۔1400 سال سے جاری مظلوم کی حمایت اور ظالم کو بے نقاب کرنے والا عزاداری کا یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔آج کے وقت کا یزید ، اسرائیل کی شکل میں ہو یا امریکہ ، ایران نے ان کے مظالم کو بے نقاب کرکے ظالم سامراج کے منہ پربڑا طمانچہ رسید کیا ہے، کہ پوری دنیا آج ایران کے ساتھ ہونے والے مظالم کی مذمت کررہی ہے۔انقلاب اسلامی کی تیاری اوراستقلال میں محرم الحرام کی مجالس اور اجتماعات کا بہت بڑا کردار ہے جوکہ میں سمجھتا ہوں کہ دس دن کا ایک ریفریشر کورس ہے جو کربلا کی اس تحریک کو سمجھنے کے لیے جس کا اہتمام ہر سال یکم محرم سے 28 صفر تک کیا جاتاہے ،ملت تشیع کے پاس یہ وہ نعمت ہے جو شاید کسی اور نظریہ کے پاس نہیں۔ اس حوالے سے تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد کا وائرل ویڈیو بیان بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے ، جس میں وہ کہتے ہیں کہ ملت ایران کے ہاں امام حسین علیہ السلام کی جو یاد منائی جاتی ہے،اس نے اہل تشیع میں جرات، بہادری، استقامت اور ظلم کا مقابلہ کرنے کی قوت پیدا کی ہے۔حسینی مکتب کا ہر مسلمان وہ چاہے سنی ہو یا شیعہ، واضح پیغام دیتا ہے کہ ہم ظالم کے مخالف ہیں چاہے وہ ہمارے ہی کیوں نہ ہ,وں اورہر مظلوم کے ساتھی ہیںچاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں