حوثی حملوں کے بعد ایران، اسرائیل کی خفیہ آئل پائپ لائن پھر توجہ کا مرکز بن گئی

حوثی حملوں کے بعد ایران، اسرائیل کی خفیہ آئل پائپ لائن پھر توجہ کا مرکز بن گئی

بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے حالیہ حملوں اور تیل برآمدات کو لاحق خطرات کے بعد اسرائیل میں موجود ایک پرانی خفیہ آئل پائپ لائن دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جسے ماضی میں ایران اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر تعمیر کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 254 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن 1960 کی دہائی میں ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایرانی خام تیل کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ایلات سے اسرائیل کے شہر اشکلون منتقل کر کے وہاں سے یورپ بھیجنا تھا، تاکہ نہر سویز کے متبادل راستے سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران اور اسرائیل کے تعلقات ختم ہونے پر اس پائپ لائن کا کنٹرول اسرائیل نے سنبھال لیا۔ بعد ازاں ایک سوئس ثالثی عدالت نے اسرائیل کو ایران کو 1.1 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا، تاہم اسرائیل نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔تجزیاتی رپورٹ کے مطابق باب المندب آبنائے میں حوثیوں کے حملوں کے خطرات کے باعث اسرائیل اس پائپ لائن کو متبادل راستے کے طور پر اہم سمجھ رہا ہے، تاہم یہ منصوبہ سیکیورٹی اور سیاسی اعتبار سے بھی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔