حوثی حملوں کے پیش نظر، 6 سعودی آئل ٹینکروں نے افریقا کے گرد متبادل بحری راستہ اپن لیا

حوثی حملوں کے پیش نظر، 6 سعودی آئل ٹینکروں نے افریقا کے گرد متبادل بحری راستہ اپن لیا

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی حملوں کے خدشات کے باعث کم از کم 6 سعودی پرچم بردار آئل ٹینکروں نے باب المندب آبنائے کے بجائے افریقا کے جنوبی حصے کیپ آف گڈ ہوپ کے ذریعے سفر شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سعودی آئل ٹینکروں نے اپنا روایتی بحری راستہ تبدیل کیا تاکہ باب المندب کے قریب ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔فارس نیوز کے مطابق یہ جہاز پہلے باب المندب کے راستے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے افریقا کے جنوبی سرے سے گزرنے والا طویل بحری راستہ اختیار کر لیا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ راستہ تبدیل کرنے کی وجہ یمنی فورسز کی جانب سے بحری جہازوں پر ممکنہ حملوں کا خدشہ ہے، تاہم سعودی حکام یا متعلقہ شپنگ کمپنیوں کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔بحری ماہرین کے مطابق اگر بڑی تعداد میں آئل ٹینکر اور تجارتی جہاز باب المندب کے بجائے متبادل راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے سفر کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے، ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی شپنگ لاگت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے مشرق وسطیٰ، ایشیا اور یورپ کے درمیان تیل اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔تاہم فارس نیوز کی رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ بین الاقوامی بحری اداروں کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔