ایران نے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کر دیں ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے:ٹرمپ

عمانی وفد نے  تجویز دی تھی آبنائے ہرمز کو اس وقت تک کھلا رکھا جائے جب تک مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا‘  اس تجویز کو قبول نہیں کیا:ایرانی نائب وزیرخارجہ
 امریکہ کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی،دھمکی یا جارحانہ اقدام کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی: ایرانی فوج
ایران کو شکست دے رہے ہیں‘ دیکھتے ہیں انجام کیا ہوتا ہے، اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی خوشگوار مذاکرات جاری ہیں:امریکی صدر
تہران(آئی این پی‘واشنگٹن )ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے  تہران نے ثالثوں کے ذریعے کیے جانیوالے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اپنے بیان میں کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ ایران نے یہ اقدام امریکا کے بے جا مطالبات کے سبب کیا ہے۔ ایران کے نائب وزیرخارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ بات چیت اسلام آباد میں شروع ہوئی تھی، امریکا نے ایسا منصوبہ پیش کیا جس میں بے جا مطالبات تھے جس پر ایرانی وفد نے منصوبہ واضح طور پر مستردکردیا۔غریب آبادی نے کہا  عمانی وفد نے زور دیا  جہازوں کی آمدورفت کیلئے کھولا گیا جنوبی راستہ اس وقت تک کھلا رکھا جائے جب تک کہ ایران اور عمان کے درمیان کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں اور بعد میں یہ راستہ بند کردیا جائے مگر ایران نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا‘ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے خطے میں جاری تنازع میں مزید کشیدگی کا اقدام تصور کیا جائے گا۔ امریکی فوج کی جانب سے کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے ‘دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے   ایران امریکا سے کہہ رہا ہے، "براہِ کرم، بحری ناکہ بندی ختم کر دیں۔"، امریکا نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا  ۔ریاست مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کی بحریہ تباہ کر دی، ان کی فضائیہ تباہ کر دی، ان کی قیادت ختم کر دی اور ان کا فضائی دفاعی نظام بھی تباہ کر دیا ہے‘انہوں نے کہا  سابق امریکی صدر باراک اوباما کا خیال تھا کہ ایران کو رعایتیں دے کر منایا جا سکتا ہے، مگر 'ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، اور ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں'۔انہوں نے مزید کہا کہ دیکھتے ہیں انجام کیا ہوتا ہے، اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی خوشگوار مذاکرات جاری ہیں۔