آبادی کنٹرول کرنا ہوگی، ہر سال ملک میں 61 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں مصطفی کمال

آبادی میں بے ہنگم اضافے سے ملک ترقی نہیں کرسکتا،صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے  سب کو  کردار ادا کرنا ہوگا، نجی شعبہ بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے
 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے پھیلتی ہیں، صاف پانی مہیا کردیا جائے تو بیماریوں میں 70فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے:وفاقی وزیر کا تقریب سے خطاب 
اسلام آباد(آ ئی این پی )وفاقی وزیر برائے  صحت مصطفی کمال نے کہا ہے   آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، ہر سال ملک میں 61 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ آبادی میں بے ہنگم اضافے سے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔اسلام آباد میں ایک  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  وفاقی وزیر صحت   کا کہنا تھا کہ اچھے کاموں کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، حکومت کے ساتھ نجی شعبہ بھی صحت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنا بہترین عمل ہے اور ہیلتھ کیئر انسان کو مریض بننے سے بچانے کا نام ہے۔  آبادی میں بے ہنگم اضافے سے ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہمیں اپنے وسائل کے اعتبار سے آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، ہر سال ملک میں 61 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں۔بچوں کو 13 بیماریوں کی ویکسینیشن ضرور کروائیں، پاکستان دنیا کے دو ممالک میں سے ہے جہاں پولیو ختم نہیں ہوا، گزشتہ سال ملک میں پولیو کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے۔  مصطفی کمال  کا مزید کہنا تھا کہ  ماہرین کے مطابق 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے پھیلتی ہیں، صاف پانی مہیا کردیا جائے تو بیماریوں میں 70فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔