وفاقی وزیر صحت کا پمز ہسپتال میں 10 فیصد مریضوں سے علاج کے پیسے لینے کا نوٹس
بتایا جائے یہ کتنی رقم ہے تاکہ وزیر اعظم سے بات کروں، یہ بھی حکومت برداشت کرے گی: وفاقی وزیر
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہاہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی بھی بڑا چیلنج ہے، ہم ہر سال نیوزی لینڈ جتنی آبادی پیدا کر رہے ہیں،حکومت شہریوں کو بیماریوں سے بچانے اور ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کو جدید بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ "احتیاط علاج سے بہتر ہے کا اصول ہماری صحت پالیسی کا بنیادی محور ہے کیونکہ صحت مند شہری ہی ایک فعال اور صحت مند معاشرہ تشکیل دیتے ہیں وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے پمز میں 10 فیصد مریضوں سے علاج و ٹیسٹوں کے پیسے لینے کا نوٹس لے لیا۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز اسپتال کے نیو ایمرجنسی و ٹراما سنٹر کا دورہ، اس موقع پر وفاقی وزیر نے اسپتال حکام سے استفسار کیا کہ سرکاری اسپتال میں 10 فیصد مریضوں سے رقم کیوں وصول کررہے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ مجھے 10 فیصد وصولی کی مد میں جمع مجموعی رقم کا بتایا جائے تاکہ وزیر اعظم سے بات کروں، یہ رقم بھی حکومت برداشت کرے گی۔وزیرصحت نے کہا کہ حکومت 90 فیصد مریضوں کے اخراجات دے رہی ہے مگر 10 فیصد کے نہیں دے رہی، جب آپ سرکاری اسپتال آنے والے چند لوگوں سے پیسے مانگتے ہیں تو یہ معاملہ سارے عمل کو خراب کررہا ہے، مجھے تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ میں پلاننگ والوں سے یا وزیر اعظم سے پیسے مانگ لیتا ہوں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پمز اسپتال میں 166 بیڈز پر مشتمل نیو ایمرجنسی و ٹراما سینٹر آئندہ 10 روز میں تیار کرلیا جائے گا، فی الحال پرانی ایمرجنسیز بھی چلتی رہیں گی۔