پختونخوا میں سیلابی تباہی، بونیر میں قیامت صغریٰ: 110 افراد جاں بحق

پختونخوا میں سیلابی تباہی، بونیر میں قیامت صغریٰ: 110 افراد جاں بحق

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

 صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق اب تک مختلف حادثات میں 110 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

بونیر میں شدید نقصان
بونیر میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے سے 75 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پیر بابا اسپتال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر امتیاز کے مطابق اب تک 43 لاشیں اسپتال پہنچائی جا چکی ہیں، جن میں 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ بونیر کے 12 سے زائد دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں اور زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔

باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام میں بھی تباہی
باجوڑ کے ضلع سالارزئی میں گزشتہ رات آنے والے سیلابی ریلے سے متعدد گھر تباہ ہو گئے اور رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے۔ مانسہرہ کے بٹگرام میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث 7 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ شانگلہ میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ متاثرہ علاقوں میں مکانات کے نقصان کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مال مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان
آزاد کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کے باعث ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ گلگت بلتستان میں بھی بارش اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ آزاد کشمیر حکومت نے شدید بارشوں کے پیش نظر دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔

آفت زدہ اضلاع اور امدادی سرگرمیاں
بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ اضلاع قرار دیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہو رہے ہیں تاکہ متاثرین تک بروقت مدد پہنچائی جا سکے۔