ہم قبول کرتے ہیں کئی مسائل حل طلب ہیں،ہم دودھ کے دھلے ہوئے تو نہیں لیکن اچھے ہیں،کراچی جیسے چلتا تھا وہ تاریخ کا حصہ ہے اب یہاں بھتہ نہیں مانگا جاتا، کیا میں نے کبھی آپ کو تنگ کیا؟
جتنا سعودی عرب کے پاس تیل ہے اتنا سندھ کے پاس کوئلہ ہے، وزیراعظم اور وزیر ڈھٹائی سے کہتے ہیں پاکستان سے لوڈ شیڈنگ ختم کردی ‘ مجھے سندھ یا کوئی ایک شہر بتادیں جہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی:تقریب سے خطاب
کراچی(آئی این پی)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کسی کو وزیراعلی یا کسی وزیر یا بیورو کریسی سے شکایت ہے تو مجھ سے کرے یہ صوبہ پیپلز پارٹی کا ہے کہیں اور جاکر چغلی کرنے کی ضرورت نہیں۔کراچی میں تاجروں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوشش کروں گا کہ تاجروں کے مسائل حل کرسکوں، کسی کو وزیراعلی یا کسی وزیر یا بیورو کریسی سے شکایت ہے تو مجھ سے کرے یہ صوبہ پیپلز پارٹی کا ہے کہیں اور جاکر چغلی کرنے کی ضرورت نہیں۔ہم مسائل کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ کئی مسائل حل طلب ہیں۔آپ کی کسی سے بھی شکایت ہے ہم سے بات کریں، ہم دودھ سے دھلے نہیں لیکن اتنے برے بھی نہیں، جن مسائل کا آپ سامنا کررہے ہو وہ سب جانتے ہیں،انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے یہ شہر چلتا تھا وہ تاریخ کا حصہ ہے اب تاجروں سے بھتہ نہیں مانگا جارہا اب آپ کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں، اب زبردستی صنعت بند نہیں ہوتی، مزدوروں کو زبردستی جلسے میں نہیں لایا جاتا تو اس میں ہمارا بھی کردار ہے، بلاول نے کہا کہ کیا میں نے کبھی آپ کو تنگ کیا؟ میں کیوں چاہوں گا کہ میرے نام پر اور حکومت کے نام پر آپ کو کوئی تنگ کرے۔بلاول نے کہا کہ سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبے منافع میں ہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے سراہا گیا ہے، یہ تمام منصوبے اپنی لاگت مکمل کرنے کے بعد اب منافع بنا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں نجی شعبے کے ساتھ مل کر سندھ کے عوام کی خدمت کریں۔ انھوں نے کہاکہ یہاں اسلام آباد میں فیصلے کیے جاتے ہیں ٹیرف سیٹ کیے جاتے ہیں ہم سے مشورے کے بغیر پالیسیاں بنائی جاتی ہیں اور نقصان سب اٹھاتے ہیں جتنا سعودی عرب کے پاس تیل ہے اتنا سندھ کے پاس کوئلہ ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ بجلی دیں اور سستی بجلی دیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان سے لوڈ شیڈنگ ختم کردی آپ مجھے سندھ یا کوئی ایک شہر بتادیں جہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی، وفاق کے رویے کے سبب سندھ حکومت بجلی کے اپنے منصوبوں کی جانب بڑھ رہی ہے ہم جو منصوبے شروع کرنے جارہے ہیں ہمیں اس کے لیے اسلام آباد سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔، وزیر یا وزیراعلی سے کوئی شکایت ہے تو مجھ سے بات کریں، کسی اور سے شکایت نہ کریں۔ چیئرمین پی پی کہنا تھا کہ میں کیوں چاہونگا کہ میرے یا حکومت کے نام پر کوئی آپ کو تنگ کرے، میں اس صوبیاور ملک سے الیکشن لڑتا ہوں، میرے نمائندے جیتتے ہیں، میری صرف ایک خواہش ہیکہ مجھے اپنیلوگوں کو نوکریاں دینی ہیں اور میں حکومت کے ذریعے اس کو پورا نہیں کرسکتا۔