یہ بچے جب اللہ کے پاس جائیں گے،ان کے منہ سے نکلنے والی آہ سب کو جلا دے گی
ہسپتال کے معاملات کا آڈٹ ، اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے اس کا حساب لیا جائے
سسٹم نہیں چل رہا توچھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ ،ناکام سسٹم کے قصور وار یہ بچے نہیں تھے:سینیٹر
اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے پمز اسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پمز ایک عقوبت خانہ ہے، اس سے اچھا ہے میں گھر میں مر جائوں۔ سینیٹر پلوشہ خان نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ موقف درست نہیں کہ بجٹ کے پیسے موجود نہیں تھے، اسپتال کے معاملات کا آڈٹ ہونا چاہیے اور اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے اس کا حساب لیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے جب اللہ کے پاس جائیں گے،ان کے منہ سے نکلنے والی آہ سب کو جلا دے گی۔سینیٹر پلوشہ نے کہا نہیں پتہ سسٹم کون ٹھیک کرے گا لیکن ان 14 بچوں کو تو قربانی کا بکرا نہیں بننا چاہیے تھا، سسٹم ناکام ہونے کے قصور وار یہ معصوم بچے نہیں تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ سسٹم ناکام ہونے کے قصوروار معصوم بچے نہیں تھے، ان 14 بچوں کو قربانی کا بکرا نہیں بننا چاہیے تھا۔پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ سسٹم نہیں چل رہا توچھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ انتظامیہ کی غفلت سے 14 بچوں کی جان گئی ، ملک کے دیگر اسپتالوں کوبھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین کے دکھ کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے جواب دہی ضروری ہے۔