ایران میں رواں سال کے آغاز سے اب تک 841 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے، جس میں صرف جولائی میں ہی 110 افراد شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں سزائے موت ریاستی خوف و ہراس کے ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سزائے موت کے اس طرز عمل سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے اور عالمی برادری کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ترجمان نے مزید کہا کہ ایران میں سیاسی کارکنان، مظاہرین، اور عام شہری بھی سزائے موت کے خطرے سے دوچار ہیں، اور حکومت کی یہ کارروائیاں آئین اور بین الاقوامی معاہدات کی خلاف ورزی ہیں۔اقوامِ متحدہ نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سزائے موت کے معاملات میں شفافیت یقینی بنائیں اور انسانی حقوق کے عالمی معیار کے مطابق اقدامات کریں۔