سیلاب کے لیے انتظامیہ الرٹ اور مکمل تیار رہے:وزیراعلیٰ سندھ

سیلاب کے لیے انتظامیہ الرٹ اور مکمل تیار رہے:وزیراعلیٰ سندھ

لاہور: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کرنے اور الرٹ رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت فلڈ ایمرجنسی اجلاس میں بتایا گیا کہ یکم ستمبر سے صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا امکان ہے اور ممکنہ سیلاب سے 52 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔ شدید سیلاب کی صورت میں متاثرہ خاندانوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔پی ڈی ایم اے حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شمالی اضلاع میں 72 جبکہ جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو بوٹس تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مچھردانیاں، کمبل، فرسٹ ایڈ کٹس، کچن سیٹ، میٹرس، پلاسٹک میٹ، پورٹ ایبل ٹوائلٹ، لحاف، سلیپنگ میٹ، خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس اور جنریٹرز بھی بڑی تعداد میں دستیاب ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے گڈو بیراج پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی پہنچنے کی پیش گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلابی ریلا آنے کی صورت میں انسانوں اور جانوروں کو کسی بھی نقصان سے بچانا اولین ترجیح ہوگی۔

شمالی اضلاع میں ریسکیو 1122 کا 30 ہزار سے زائد عملہ تعینات کیا جائے گا اور دریا کے کناروں پر 500 سے زائد کیمپ قائم کیے جائیں گے۔ نجی شعبے کی مشینری بھی ہنگامی حالات کے لیے تیار رکھی جائے گی۔اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل میمن، مخدوم محبوب زمان، چیف سیکریٹری، وزیر آبپاشی جام خان شورو، مکیش چاولہ اور محمد بخش مہر کے علاوہ رائٹ اور لیفٹ بینک علاقوں کے ارکان اسمبلی اور ڈویژنل کمشنرز بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر ضلع میں موجود انتظامیہ اور متعلقہ ادارے بارش اور سیلاب کی ممکنہ صورتحال کے حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنائیں۔