اوسلو: ناروے پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ایتھوپین نژاد سماجی کارکن تمیما نِبراس جوہار کے قتل کے الزام میں گرفتار 18 سالہ نوجوان نے اوسلو کی ایک مسجد پر حملے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی۔
واقعے کی تفصیلات
مقتولہ ہوسٹل کی اسٹاف ممبر تھی جبکہ ملزم وہاں رہائشی تھا۔پولیس کے مطابق ملزم کو ہفتہ کی رات قتل کے بعد اوسلو کے ایک ہوسٹل سے گرفتار کیا گیا۔تحقیقات کے دوران ملزم نے بتایا کہ وہ اوسلو سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال میں واقع فوس کی مسجد پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ابتدائی شواہد کے مطابق نوجوان کی مزید حملے کرنے کی صلاحیت محدود تھی اور وہ اکیلا ہی کارروائی کر رہا تھا۔
الزامات اور تحقیقات
ملزم کے خلاف قتل اور دہشت گردی دونوں الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔پولیس کے مطابق ملزم نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی خیالات کا اظہار کیا تھا۔مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ملزم جرمن شہری جورجے ولمز ہے جو بچپن میں سربیا سے ناروے آیا تھا، تاہم پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
ماضی کے پیش نظر تنبیہ
ناروے میں دائیں بازو کے انتہا پسندانہ حملے ماضی میں بھی ہوئے ہیں:2011 میں آندرس بیہرنگ بریویک نے اوسلو میں بم دھماکہ اور اوٹویا جزیرے پر فائرنگ کرکے 77 افراد قتل کیے تھے۔2019 میں فلپ مانس ہاؤس نے اوسلو کی ایک مسجد پر فائرنگ کی تھی، لیکن نمازیوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ناروے پولیس نے کہا ہے کہ ملزم کے اقدام کو بروقت روک کر بڑے حادثے سے بچا لیا گیا، اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے ممکنہ خطرات پر مکمل نگرانی جاری ہے۔