نارویجن کمپنیوں نے دنیا میں پہلی مرتبہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محفوظ کرنے کا کمرشل منصوبہ شروع کر دیا ہے جسے ماحولیاتی ماہرین ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔
ناروے میں ’’نارتھرن لائٹس‘‘ کے نام سے شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد فضا میں کاربن کے بڑھتے ہوئے اخراج کو کم کرنا اور ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کی عملی کوشش کرنا ہے۔ یہ منصوبہ تین بڑی بین الاقوامی آئل کمپنیوں، ایکوئینور، شیل اور ٹوٹل انرجیز کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔
منصوبے کی تفصیلات
یورپی کارخانوں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پہلے مائع شکل میں جہاز کے ذریعے ناروے پہنچایا جاتا ہے۔بعد ازاں اسے پائپ لائن کے ذریعے سمندر کی تہہ میں تقریباً ڈھائی کلومیٹر گہرائی تک پہنچا کر مستقل طور پر محفوظ کیا جاتا ہے۔پہلا کامیاب انجیکشن جرمنی کے ایک سیمنٹ پلانٹ سے کیا گیا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان صنعتوں کے لیے نہایت اہم ہے جنہیں مکمل طور پر ’’کاربن فری‘‘ بنانا مشکل ہے، جیسے سیمنٹ اور اسٹیل کے کارخانے۔
صلاحیت اور مستقبل
فی الحال یہ منصوبہ سالانہ 15 لاکھ ٹن کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم توقع ہے کہ دہائی کے اختتام تک اس کی گنجائش 50 لاکھ ٹن سالانہ تک بڑھ جائے گی۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس طرح کے منصوبے دنیا کو کاربن کے اخراج میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک نئی امید فراہم کر سکتے ہیں۔