کرتارپور میں تباہی کا ذمہ دار بھارت کا چھوڑا گیا پانی ہے، رمیش سنگھ اروڑا

کرتارپور میں تباہی کا ذمہ دار بھارت کا چھوڑا گیا پانی ہے، رمیش سنگھ اروڑا

پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ کرتارپور اور اس کے گردونواح میں ہونے والی تباہی کی بنیادی وجہ بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا پانی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بھارت نے اچانک اپنے ڈیموں سے پانی چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں دریائے چناب، راوی اور ستلج میں شدید طغیانی آئی۔ اس کے نتیجے میں کرتارپور کے علاقے میں گوردوارہ دربار صاحب اور قریبی بستیوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے خصوصی درخواست کی تھی کہ مشرقی پنجاب (بھارت) سے سکھ یاتریوں کو ویزے دے کر کرتارپور گوردوارہ آنے کی اجازت دی جائے، لیکن اس کے برعکس مودی حکومت نے "ڈھائی ہزار یاتری بھیجنے کے بجائے ڈھائی لاکھ کیوسک پانی پاکستان بھیج دیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اس پانی کو راجستھان کی طرف بہنے والی نہروں میں منتقل کرتا، لیکن جان بوجھ کر پاکستان کی طرف چھوڑا گیا جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایک ساتھ چناب، راوی اور ستلج میں تقریباً 14 لاکھ کیوسک پانی پھینکا، جس سے پنجاب کے کئی اضلاع متاثر ہوئے اور فصلوں، گھروں اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ماحولیاتی آفت نہیں بلکہ "بھارت کی طرف سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی سازش" ہے۔ رمیش سنگھ اروڑا نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس انسانی بحران پر توجہ دے اور بھارت کو اس قسم کے اقدامات سے روکے۔