پمز سانحے کے ذمہ دار کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

پمز سانحے کے ذمہ دار کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حالیہ سانحہ بہت بڑا حادثہ ہے، جس کا سبب اچانک رونما ہونے والی صورتحال ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ ایک کمیٹی، جس کی سربراہی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کریں گے، اپنی ابتدائی رپورٹ آج پیش کرے گی۔ دوسری کمیٹی، جس کی قیادت ڈاکٹر اظہر کیانی کریں گے، سات روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔اعظم نذیر تارڑ نے زور دیا کہ اس نوعیت کے واقعات سے بچاؤ کے لیے سیاسی بیانیہ ترک کرکے عملی تجاویز پر غور کیا جائے۔پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے سانحہ پمز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اس واقعہ کے حل کی طرف جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، اور دروازوں پر تالے کیوں لگے تھے۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹیاں پارلیمانی کمیٹی کی شکل میں بنائی جائیں تاکہ حقائق کا پتا چل سکے۔دوسری جانب، ڈاکٹر امجد نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ اسلام آباد کے 16 بیسک ہیلتھ یونٹس میں سے صرف چار میں ہیڈ ڈاکٹر موجود تھے، اور رجسٹریشن کا عمل بھی موثر انداز میں مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں قانون سازی کے باوجود رجسٹریشن بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا اور انسپیکشن کمیٹی بھی فعال نہیں ہوئی۔

شاہدہ اختر علی نے مطالبہ کیا کہ پمز واقعہ میں ملوث تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور مکمل رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کا ہنگامی اجلاس سوموار کو طلب کر لیا گیا ہے، جس میں وفاقی وزیر، سیکریٹری صحت اور پمز انتظامیہ کو طلب کیا گیا ہے۔اپوزیشن رکن اسد قیصر نے کہا کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پمز کا حال بہت افسوسناک ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ اس کی ذمہ داری قبول کرے۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیر صحت سے استعفوں کا مطالبہ بھی کیا اور پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔ایوان نے پمز واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے یقین دلایا کہ ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات مکمل ہوں گی، اور ذمہ دار کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال لاکھوں بچے جان سے جاتے ہیں اور حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔وفاقی وزیر قانون نے سانحہ پمز پر اسپیشل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی، جسے ایوان نے منظور کیا۔اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔