ایران جنگ کا اثر، چند دنوں میں امریکی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان

ایران جنگ کا اثر، چند دنوں میں امریکی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان

امریکا کی مختلف جنگوں کے معاشی اور انسانی اثرات پر بین الاقوامی میڈیا میں ایک بار پھر تفصیلی تجزیے سامنے آئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں لڑی جانے والی جنگوں نے نہ صرف انسانی جانوں کا بڑا نقصان کیا بلکہ امریکی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کوریا جنگ سے لے کر افغانستان اور دیگر تنازعات تک لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ مجموعی طور پر کھربوں ڈالرز جنگی اخراجات کی نذر ہو گئے۔ ایک اندازے کے مطابق 2001 کے بعد امریکی قیادت میں ہونے والی جنگوں میں تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔افغانستان جنگ، جو 2001 سے 2021 تک جاری رہی، امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ قرار دی جاتی ہے۔ اس دوران لاکھوں امریکی فوجی تعینات رہے، جن میں ہزاروں ہلاک اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے، تاہم سب سے زیادہ نقصان افغان شہری آبادی کو پہنچا۔رپورٹس میں حالیہ ایران تنازع کو بھی اخراجات کے لحاظ سے انتہائی مہنگا قرار دیا جا رہا ہے، جس کے دوران ابتدائی دنوں میں ہی اسلحے اور فوجی کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر بھی بھاری اخراجات رپورٹ کیے گئے۔دعووں کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں ایران میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے جبکہ امریکی فوجی جانی نقصان بھی سامنے آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کے اندر اس جنگ کے خلاف عوامی ردعمل بھی دیکھنے میں آیا، جہاں ایک بڑی تعداد نے فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات عالمی منڈیوں، بالخصوص تیل کی قیمتوں اور عام شہریوں کے روزمرہ اخراجات پر بھی پڑتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مجموعی معاشی دباؤ کے باعث امریکی عوام پر اربوں ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگوں کی اصل قیمت صرف فوجی اخراجات نہیں بلکہ انسانی جانوں کا نقصان، معاشی دباؤ اور طویل المدتی سماجی اثرات بھی ہوتے ہیں، جو کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔