ویب ڈیسک: اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس ایسی انٹیلی جنس معلومات تھیں جن کے مطابق ایران چند دنوں کے اندر جوہری بم بنانے کے لیے درکار مواد تیار کر سکتا تھا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈینی ڈینن نے کہا کہ:"ہم نے مسئلے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، لیکن جب ایران کی جوہری پیش رفت ایک خطرناک حد تک پہنچ گئی تو ہمیں اپنے دفاع کے لیے تنہا اقدام کرنا پڑا۔"
ایران پر اسرائیلی حملے کی پس منظر
ڈینی ڈینن کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز اسرائیل نے ایران پر براہِ راست حملے کیے جن میں ایران کی مسلح افواج کے سربراہ سمیت 6 اہم ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے۔ مجموعی طور پر 7 افراد شہید اور 50 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ایران کا سخت جواب — ’وعدہ صادق سوم‘ آپریشن
ایرانی ردِعمل میں اسرائیل پر جوابی حملہ کیا گیا، جسے ایران نے ’وعدہ صادق سوم‘ کا نام دیا۔ اس آپریشن میں اسرائیلی شہروں پر میزائلوں کی بارش کی گئی اور تل ابیب سمیت متعدد فوجی اور صنعتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل کی تنہائی میں کارروائی کا اعتراف
ڈینی ڈینن نے اعتراف کیا کہ ایران پر حملہ کسی بین الاقوامی اتحاد کے بغیر تن تنہا کیا گیا، کیونکہ اسرائیل کے بقول ایران کی جوہری پیش رفت پورے خطے کے لیے خطرہ تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ:"ہم نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری فیصلہ کیا۔"