ٹرمپ سے ایران جنگ کی حقیقت چھپائی جا رہی ہے؟ امریکی جریدے دی اٹلانٹک کا دعویٰ

ٹرمپ سے ایران جنگ کی حقیقت چھپائی جا رہی ہے؟ امریکی جریدے دی اٹلانٹک کا دعویٰ

امریکی جریدہ دی اٹلانٹک کا انکشاف، پینٹاگون امریکی صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر فراہم نہیں کر رہا؟  
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے ملنے والی معلومات مکمل اور حقیقی نہیں ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بند کمرہ اجلاسوں میں سوال اٹھایا کہ دفاعی ادارے کی بریفنگز حقیقت پسندی اور شفافیت سے بھرپور ہیں یا نہیں۔  خصوصی طور پر، وینس نے ایرانی میزائل ذخائر میں کمی پر تشویش ظاہر کی اور براہ راست صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ پینٹاگون کی جنگ سے متعلق معلومات کی درستگی اور اعتماد کتنا ہے۔  انٹیلیجنس جائزوں کے مطابق، ایران اب بھی اپنی فوجی صلاحیت کا بڑا حصہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جن میں فضائیہ کا تقریباً دو تہائی حصہ، میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت، اور تیز رفتار بحری کشتیاں شامل ہیں، جو آبنائے ہرمز میں سرنگیں بچھانے اور جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔  
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے ایران کے تقریباً 50 فیصد میزائل لانچرز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر نئے نظام فعال کیے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔  ذرائع کے مطابق، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی بریفنگز صدر کی ترجیحات کے مطابق دی جا رہی ہیں، اور سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر صدر کو مکمل حقائق فراہم نہ کیے گئے تو یہ صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے۔