اس مجوزہ معاہدے میں ایران سے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محدود کرنے اور اسے محدود مدت کے لیے روکنے کا منصوبہ شامل تھا، جس کے بدلے میں ایران کو اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی اور سخت پابندیوں میں نرمی دی جانی تھی۔
وائرڈ کے مطابق، اس تجویز کو تیار کرنے میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کشنر نے اہم کردار ادا کیا، اور اسے صدارتی منظوری کے بعد حتمی شکل دی گئی تھی۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو سیاسی طور پر حساس قرار دے کر مسترد کیا، کیونکہ اس سے ایران کو بڑی مالی رعایت دینے کا تاثر پیدا ہو سکتا تھا جس پر سخت ردعمل ظاہر کیا جا سکتا تھا۔ یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ ایران سے متعلق اپنی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور کر رہا تھا، لیکن سیاسی اور داخلی وجوہات کی بنا پر اس تجویز کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔