اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت نے سرکاری افسروں کی دہری شہریت کے حوالے سے قواعد کی تیاری میں اہم پیشرفت کر لی ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کر دیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق یہ اقدام سول سروس میں شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ کیلئے کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈرافٹ سیکریٹریز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے، جس میں سرکاری افسران کیلئے سخت پابندیاں اور واضح ڈکلیئریشن سسٹم تجویز کیا گیا ہے۔مجوزہ قواعد کے مطابق ہر سول سرونٹ کو اپنی کسی بھی ممکنہ دوہری شہریت کے بارے میں 90 دن کے اندر لازمی طور پر حکومت کو آگاہ کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی دوسرے ملک کی شہریت یا مستقل رہائش کیلئے درخواست بھی نہیں دے سکیں گے۔ذرائع کے مطابق ڈرافٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ماضی میں اگر کسی سفارتکار یا سرکاری افسر نے کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کی ہے تو اسے واپس چھوڑنا ہوگا۔حکام کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آئندہ چند روز میں ان مجوزہ قواعد کی منظوری دے سکتے ہیں