سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اس جنگ کاسب سے بڑااثرعام لوگوں پرپڑرہاہے۔خلیجی ممالک کی معیشتیں عالمی سرمایہ کاری اوربیرونی افرادی قوت پرقائم ہیں۔ پاکستان،بھارت اوربنگلہ دیش کے لاکھوں لوگ وہاں کام کرتے ہیں۔اب جب ایئرپورٹس بندہیں اورمیزائل حملوں کاخطرہ موجودہے تو ہزاروں لوگ وہاں پھنس گئے ہیں۔کئی مسافروں کی دل دہلا دینے والی کہانیاں میڈیاپر سامنے آرہی ہیں۔ایک امریکی خاتون نے روتے ہوئے کہا’’ہم نے کبھی سوچابھی نہیں تھاکہ ہم بھی ایسے حالات میں پھنس جائیں گے‘‘۔ایک اورمسافر نے بتایاکہ وہ میزائل حملوں سے بچنے کیلئے پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے۔یہ صورتحال اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جنگ ہمیشہ عام انسان کی زندگی کوسب سے زیادہ متاثرکرتی ہے۔
کیاامریکااورخلیجی ممالک کے تعلقات بدل رہے ہیں؟تواس کاجواب یہ ہے کہ مختصرمدت میں شایدنہیں۔امریکااب بھی خلیجی ممالک کا سب سے بڑاسکیورٹی فراہم کرنے والاہے۔ لیکن طویل مدت میں تبدیلی کے آثارنظرآرہے ہیں۔خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی پالیسیوں کو متنوع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ چین،یورپ اوردیگرممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھارہے ہیں تاکہ مکمل طورپرامریکا پر انحصارنہ کرناپڑے۔
ادھردوسری طرف مشرقِ وسطی کی نئی جنگ اور عالمی سیاست کے وسیع تناظرمیں دیکھاجائے توایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو ند کرنے کی دھمکی نے عالمی معیشت میں بے چینی پیداکردی ہے۔یہ سمندری راستہ دنیاکے سب سے اہم توانائی کے راستوں میں شمارہوتاہے۔عالمی سطح پرتیل کی ایک بڑی مقداراسی راستے سے گزرتی ہے۔اگراس راستے میں رکاوٹ پیداہوجائے تونہ صرف تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ عالمی تجارتی نظام بھی متاثرہوسکتاہے۔ابھی ایران کی طرف سے مسلسل یہ اعلان سامنے آرہاہے کہ اس نے آبنائے ہرمزبند نہیں کی لیکن تیل کی عالمی قیمتیں آسمان کی طرف پروازکرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امریکااوراس کے اتحادی ہمیشہ اس بات کویقینی بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمزکھلی رہے۔ایران اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے اوراسی لیے اس نے بارہااس راستے کوایک اسٹریٹجک دباؤکے آلے کے طورپراستعمال کرنے کی دہمکی دی ہے۔پاسداران انقلاب کے کمانڈرنے ٹرمپ کی دہمکیوں کے جواب میں کہاہے کہ آبنائے ہرمزسے کسی بھی تجارتی جہازکیلئے کھول کردکھاؤ،جس کے بعد تمام عالمی جہازراں کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو اس روٹ کو استعمال کرناچھوڑدیاہے۔موجودہ جنگ میں بھی یہی حکمت عملی نظر آتی ہے۔ایران یہ پیغام دیناچاہتا ہے کہ اگ اس کی سلامتی کوخطرہ لاحق ہواتو وہ عالمی معیشت کیلئے بھی مشکلات پیداکرسکتاہے۔
ہرجنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کاایک بڑاحصہ نفسیاتی اوراطلاعاتی جنگ پرمشتمل ہوتاہے۔موجودہ جنگ میں بھی یہی عنصرنمایاں ہے۔ایران،اسرائیل اور امریکاتینوں اپنی اپنی کامیابیوں کوبڑھاچڑھاکرپیش کررہے ہیں جبکہ نقصانات کوکم ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔میڈیاکے ذریعے عوامی رائے کومتاثر کرنابھی اس جنگ کاایک اہم حصہ بن چکاہے۔ایک طرف ایرانی میڈیااپنے عوام کویہ یقین دلانے کی کوشش کررہاہے کہ وہ ایک بڑی عالمی طاقت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں،جبکہ دوسری طرف اسرائیلی اورامریکی میڈیااس جنگ کوایران کے عسکری ڈھانچے کوکمزور کرنے کی مہم کے طورپر پیش کررہے ہیں۔
خلیجی ممالک کیلئے یہ جنگ صرف ایک خارجی مسئلہ نہیں بلکہ داخلی سطح پربھی ایک بڑاچیلنج ہے۔گزشتہ تین دہائیوں میں ان ممالک نے اپنے آپ کوایک ایسے خطے کے طورپرپیش کیا ہے جہاں معاشی ترقی،جدید انفراسٹرکچراورعالمی سرمایہ کاری کوفروغ دیاجاتاہے۔دبئی،دوحہ اورریاض جیسے شہراس پالیسی کی مثال ہیں۔یہاں دنیابھرسے سرمایہ کار،سیاح اور مزدور آتے ہیں۔لیکن جنگ کے ماحول میں یہ ماڈل شدیددباؤکاشکارہوسکتاہے۔اگرخطے میں مسلسل عدم استحکام پیداہوتاہے توعالمی سرمایہ کارمحتاط ہوسکتے ہیں اورسیاحت و تجارت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اس جنگ کے جلدخاتمے کے خواہاں نظرآتے ہیں۔
تاہم ایران کی عسکری اورسیاسی حکمت عملی کوسمجھنے کیلئے اس کے تاریخی تجربات کومدنظررکھناضروری ہے۔ایران نے1980کی دہائی میں عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ کا سامنا کیاتھاجس میں اسے شدیدجانی ومالی نقصان اٹھاناپڑا۔اس جنگ کے بعدایران نے اپنی دفاعی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔اس نے روایتی فوجی طاقت کے بجائے میزائل پروگرام،ڈرون ٹیکنالوجی اورعلاقائی اتحادی گروہوں پرزیادہ انحصارکرناشروع کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج ایران کے پاس ایک ایسا میزائل اورڈرون نیٹ ورک موجودہے جو پورے خطے میں اثراندازہوسکتاہے۔ موجودہ جنگ میں ایران اسی حکمت عملی کواستعمال کررہاہے۔ وہ براہ راست محاذآرائی کی بجائے مختلف محاذوں پردباؤڈال کراپنے مخالفین کو تھکانے کی کوشش کررہاہے۔
اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ وہ اپنے ممکنہ خطرات کوابتدائی مرحلے میں ہی ختم کرنے کی کوشش کرے۔اسی اصول کے تحت اس نے ماضی میں عراق اورشام کے جوہری پروگراموں کونشانہ بنایاتھا۔اسرائیل کیلئے ایران کاعسکری پروگرام اوراس کے علاقائی اتحادی ایک بڑاخطرہ سمجھے جاتے ہیں۔اسی لیے اسرائیل بارہایہ اعلان کرچکاہے کہ وہ ایران کوجوہری یاعسکری برتری حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔موجودہ جنگ کوبھی اسی پالیسی کاتسلسل سمجھاجاسکتاہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کسی بھی بڑی جنگ میں عالمی طاقتوں کاکردارہمیشہ اہم رہاہے۔امریکاتو براہ راست اس تنازع کاحصہ ہے،لیکن چین،روس اوریورپی ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظررکھے ہوئے ہیں۔چین کی معیشت توانائی کے درآمدی وسائل پرانحصار کرتی ہے،اس لیے اسے خلیجی خطے میں استحکام کی ضرورت ہے۔روس بھی اس خطے میں اپنی سفارتی اورعسکری موجودگی کو برقراررکھناچاہتاہے۔ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ ممالک جنگ بندی یاسفارتی حل کی کوششوں میں کرداراداکریں۔موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے چند ممکنہ منظرنامے سامنے آسکتے ہیں۔
ٌ٭پہلامنظرنامہ یہ ہے کہ جنگ محدوددائرے میں رہتے ہوئے چندہفتوں یامہینوں میں ختم ہوجائے۔اس صورت میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابیوں کااعلان کر کے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔
٭دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ جنگ طویل ہوجائے اورخطے کے مزید ممالک اس میں شامل ہوجائیں۔یہ صورتحال عالمی معیشت کیلئے انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔
٭تیسرامنظرنامہ یہ ہے کہ بین الاقوامی دباکے نتیجے میں سفارتی مذاکرات شروع ہوجائیں اورکسی سمجھوتے کے ذریعے کشیدگی کم کردی جائے۔
ہرجنگ کی طرح اس جنگ کاسب سے بڑا نقصان عام لوگوں کواٹھاناپڑرہاہے۔شہری آبادیوں پرحملوں،نقل مکانی اورمعاشی مشکلات نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کومتاثرکیا ہے ۔بچے،خواتین اوربزرگ وہ طبقہ ہیں جوسب سے زیادہ متاثرہوتے ہیں۔جنگی ماحول میں تعلیم،صحت اورروزگار کے مواقع محدودہوجاتے ہیں اورمعاشرتی ڈھانچہ کمزورپڑنے لگتا ہے۔یہ انسانی پہلواکثرسیاسی بحثوں میں نظراندازہوجاتاہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی اصل قیمت یہی عام لوگ اداکرتے ہیں۔اگرمجموعی طورپر اس جنگ کاجائزہ لیاجائے تویہ واضح ہوتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرایک اہم تاریخی موڑپرکھڑاہے۔اس جنگ کے اثرات صرف ایران،اسرائیل یاخلیجی ممالک تک محدودنہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست اورمعیشت کوبھی متاثرکریں گے۔
یہ کہناابھی قبل ازوقت ہے کہ یہ جنگ کس سمت جائے گی،لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ یہاں ہونے والی جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ عالمی طاقتوں کی سیاست،توانائی کی منڈیوں اوربین الاقوامی تعلقات کوبھی نئی شکل دیتی ہیں۔ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں مؤرخین اس جنگ کواکیسویں صدی کے ان واقعات میں شمارکریں جوعالمی نظام کے توازن کوبدلنے کاسبب بنے۔
اگر اس پوری صورتحال کو ایران کے زاویے سے دیکھاجائے تویہ صرف جوابی کارروائی نہیں بلکہ بقاکی جنگ بن چکی ہے۔ایران واضح کرناچاہتا ہے کہ اگروہ غیرمستحکم ہواتو پورا خطہ بھی غیرمستحکم ہوجائے گا۔دوسری طرف خلیجی ممالک ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔اگرجنگ طویل ہوجاتی ہے تواس کی سب سے بڑی قیمت شاید انہی ممالک کوادا کرناپڑے گی۔ان کی معیشت،سلامتی اورعالمی سرمایہ کاری سب خطرے میں ہے۔یوں کہاجاسکتاہے کہ اس جنگ کاحقیقی میدان شایدایران اوراسرائیل نہ ہوں بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ہو۔اورتاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں شروع ہوتی ہیں توان کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیاکومتاثرکرتے ہیں۔