مشرقِ وسطیٰ کا طوفان

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
اگراس جنگ کوصرف ایران اوراسرائیل کے درمیان ایک عسکری تصادم کے طورپردیکھاجائے توشایداس کی اصل نوعیت سمجھ میں نہ آئے۔حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطی میں ہونے والی تقریباًہربڑی جنگ دراصل علاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کے توازن کی کشمکش کامظہرہوتی ہے۔موجودہ جنگ بھی اسی طویل تاریخی سلسلے کاایک نیاباب معلوم ہوتی ہے۔
اس خطے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں کے تنازعات کبھی محض دوریاستوں کے درمیان نہیں رہتے بلکہ ان کے پیچھے وسیع ترجغرافیائی سیاسی مفادات کارفرماہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط سے لے کرآج تک مشرقِ وسطی کی سیاست تین بنیادی عوامل کے گردگھومتی رہی ہے:توانائی کے وسائل،عالمی طاقتوں کی مداخلت اورعلاقائی طاقتوں کی رقابت۔موجودہ جنگ کو بھی انہی عوامل کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
گزشتہ ہفتے28فروری کی شب،جب دنیاکے بیشترحصوں میں زندگی معمول کے مطابق جاری تھی،مشرقِ وسطی کی فضاں میں ایک نئی ہلچل جنم لے رہی تھی۔جمعہ اورہفتہ کی درمیانی شب اچانک امریکااوراسرائیل نے ایران پروسیع فضائی حملوں کاآغازکردیا۔چندہی گھنٹوں کے اندراندروہ خطہ جوپہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی،پراکسی جنگوں اورطاقت کے توازن کی کشمکش کامیدان رہا ہے،ایک نئی اورخطرناک جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔صبح ہوتے ہوتے دنیاکو معلوم ہوچکاتھاکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ ایران نے فوری طورپرجوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اورخطے میں موجودامریکی فوجی اڈوں کونشانہ بناناشروع کردیا۔چنددنوں میں صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ نہ صرف ایران اوراسرائیل بلکہ پوراخطہ اس تصادم کی زدمیں آگیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس جنگ میں ایران کی اعلی قیادت کوشدید نقصان پہنچاہے۔ایران کے رہبرِاعلی آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلی فوجی قیادت کیمتعددافرادہلاک ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔امریکی اوراسرائیلی حملوں میں ایک ہزارسے زائدایرانی شہری مارے جاچکے ہیں جن میں ڈیڑھ سوسے زیادہ اسکول کی بچیاں بھی شامل بتائی جاتی ہیں۔دوسری طرف ایران کی جوابی کارروائیوں میں اسرائیلی شہریوں اورامریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔لیکن اس جنگ کادائرہ صرف ایران اوراسرائیل تک محدود نہیں رہا۔لبنان،عراق اورشام کے بعداب خلیجی ممالک بھی اس کے اثرات محسوس کررہے ہیں۔سعودی عرب،قطر،عمان،بحرین اورمتحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس تصادم کے سائے میں آچکے ہیں۔ایران نے ایک طرف آبنائے ہرمزکو بندکرنے کااعلان کیاہے،جبکہ دوسری طرف خلیجی ممالک کے اندرموجودتوانائی کے بنیادی ڈھانچے، امریکی سفارت خانوں اورایئرپورٹس کوبھی نشانہ بنایاہے۔جیسے جیسے یہ جنگ پھیل رہی ہے،خطے میں جانی اورمالی نقصان بڑھتاجارہاہے۔اس پس منظرمیں یہ سوال نہایت اہم ہوجاتاہے کہ اسرائیل اورامریکاکے ایران پرحملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے خلیجی عرب ممالک اورپورے مشرقِ وسطی پرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اسی تناظر میں دو بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:
ایران امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے غیرفوجی اہداف کوکیوں نشانہ بنارہاہے؟
اس تنازع کاخلیجی ممالک کے باہمی تعلقات اورامریکاکے ساتھ ان کے تعلقات پرکیااثرپڑسکتاہے؟
اگر موجودہ صورتحال کاجائزہ لیاجائے توامریکااوراسرائیل کادعوی ہے کہ ایران میں کئی اہم فوجی اورسیاسی اہداف کونشانہ بنایاگیا ہے۔ان کے مطابق رہبرِاعلیٰ کے کمپاؤ نڈ، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈاینڈکنٹرول سینٹراورصدارتی دفترسمیت کئی اہم مقامات کوتباہ کیاگیا۔امریکی حکام کے مطابق پہلے48گھنٹوں میں ایران کے اندر1200سے زائد اہداف پرحملے کیے گئے۔دوسری جانب ایران کاکہناہے کہ جنوبی ایران میں منیاب کے مقام پرایک اسکول پرتین میزائل داغے گئے جن میں150سے زائد طالبات شہید ہوئیں ۔ اسی طرح کرمان شاہ اورتبریزمیں فوجی تنصیبات،جبکہ بندرعباس اورکنارکے علاقوں میں ایرانی بحری تنصیبات کونشانہ بنایاگیا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ امریکی افواج نے ایران کے28بحری جہازتباہ کردیے اورایران کے بحری ہیڈکوارٹرکو تقریبا ناکارہ بنادیا۔ایران نے پہلے ہی خبردارکیاتھا کہ اگراس پرحملہ ہواتووہ پورے خطے میں امریکی اوراسرائیلی مفادات کونشانہ بنائے گا۔ اورواقعی یہی ہوا۔ایران نے اپنی جوابی کارروائی میں اسرائیل کے علاوہ کویت،اردن، بحرین ،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں پرسینکڑوں میزائل داغے اورتقریباایک ہزارڈرون حملے کیے۔بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹر،سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری اوردبئی کی جبل علی بندرگاہ جیسے اہم مراکزکونشانہ بنایاگیا۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ،کیا مریکاکویہ اندازہ نہیں تھاکہ ایران اس طرح پورے خطے میں جوابی کارروائی کرے گا؟تجزیہ کاروں کے مطابق امریکاکواس بات کا مکمل اندازہ تھا کہ ایران ردعمل دے گا۔درحقیقت جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی امریکی فوج نے اپنی کئی اہم تنصیبات کومحفوظ مقامات پرمنتقل کردیاتھا۔بحرین میں موجودپانچویں بحری بیڑے کے کچھ جہازہٹادیے گئے،قطر کے العدید ایئربیس سے کئی طیارے منتقل کردیے گئے اورکچھ فارورڈآپریٹنگ پوزیشنزکواردن اوراسرائیل کے اندرمنتقل کیاگیایعنی جنگ کی قیمت اوراس کے ممکنہ اثرات پہلے ہی حساب میں لائے جاچکے تھے۔
اگرچہ فوجی نقصان کی شدت کے بارے میں مختلف آراموجودہیں،لیکن ایک چیزپرسب متفق ہیں کہ اس جنگ کی معاشی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔تیل اورگیس کی عالمی قیمتیں تیزی سے اوپرجارہی ہیں۔عالمی مارکیٹوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے اورسرمایہ کارمحتاط ہوگئے ہیں۔معاشی ماہرین کاکہناہے کہ مارکیٹیں عموماغیرمتوقع واقعات پرشدید ردعمل دیتی ہیں،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اکثر حالات معمول پرواپس آجاتے ہیں۔تاہم مشرقِ وسطی کی جنگوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثرمختصر نہیں ہوتیں۔
خلیجی ممالک کے اندربڑھتی بے چینی اب ایک نئی بحث جنم لے رہی ہے۔کچھ سعودی حکام اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکا کی دفاعی حکمت عملی کااصل مرکزاسرائیل ہے،نہ کہ خلیجی ممالک۔ان کاکہناہے کہ امریکااسرائیل کی سلامتی کے بارے میں تو فوری ردعمل دیتاہے،لیکن خلیجی ممالک کوپہنچنے والے نقصانات پراتنی سنجیدگی نہیں دکھاتا۔یہ احساس بہت حد تک درست اور خلیجی ممالک میں ایک طرح کی ناراضی کوجنم دے رہاہے۔سیاسی نظام جب دبامیں آتے ہیں توان کے اندرموجود دراڑیں بھی نمایاں ہوجاتی ہیں۔یہی صورتحال اب خلیجی خطے میں نظرآرہی ہے۔
ایران خلیجی ممالک کوکیوں نشانہ بنارہاہے؟یہ سوال اس جنگ کاسب سے اہم پہلو ہے۔ایران کامؤقف یہ ہے کہ وہ براہ راست خلیجی ممالک کونشانہ نہیں بنارہابلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنا رہا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے مطابق’’ اگرامریکا ہمارے خلاف حملے ان اڈوں سے کرتاہے تووہ اڈے ہمارے لیے جائزفوجی اہداف ہیں‘‘ لیکن حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔کچھ حملے ایسے بھی ہوئے ہیں جن میں خلیجی ممالک کے شہری انفراسٹرکچرکونقصان پہنچاہے،مثلا متحدہ عرب امارات کے ایئر پورٹس یابحرین کے بعض شہری علاقے۔یہ محض حادثہ نہیں لگتا۔زیادہ ترتجزیہ کاروں کے مطابق ایران دراصل جنگ کی قیمت پورے خطے کیلئے بڑھاناچاہتاہے۔اگرخلیجی ممالک کواس جنگ کامعاشی اورسیاسی نقصان ہوگاتووہ امریکاپردباؤ ڈالیں گے کہ وہ جنگ ختم کرے۔
کیاخلیجی ممالک جنگ میں شامل ہوں گے؟یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔خلیجی ممالک نے سخت بیانات ضروردیے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک براہ راست فوجی کارروائی نہیں کی۔ اس کی ایک بڑی وجہ صلاحیت کی کمی بھی ہے۔اگران کے پاس مکمل دفاعی صلاحیت ہوتی توخطے میں اتنے بڑے امریکی فوجی اڈے موجود نہ ہوتے۔قطرمیں العدیدایئر بیس،بحرین میں ففتھ فلیٹ اورسعودی عرب میں امریکی فوجی تنصیبات اس بات کاثبوت ہیں کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کیلئے امریکاپرانحصارکرتے ہیں۔
اس جنگ کاایک بڑانتیجہ یہ ہوسکتاہے کہ خلیج میں عسکریت پسندی بڑھ جائے۔ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام نے خلیجی ممالک کویہ احساس دلایاہے کہ وہ براہ راست خطرے میں ہیں۔ایران کے شہیدڈرونزتقریبا2000کلومیٹرتک مارکرسکتے ہیں،جس کا مطلب ہے کہ پوراخلیجی خطہ ان کی پہنچ میں ہے۔اسی لیے خلیجی ممالک پہلے ہی میزائل دفاعی نظاموں پراربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔(جاری ہے)