اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے تناظر میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے وسائل، افرادی قوت اور جدید سہولیات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
حالیہ رپورٹس اور سرکاری دستاویزات میں فورس کو درپیش افرادی اور تکنیکی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کو تقریباً 17 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ ماضی کی رپورٹس میں تقریباً 13 ہزار 500 پولیس اہلکاروں کی سیاست دانوں، سرکاری افسران، حساس عمارتوں اور دیگر سیکیورٹی ذمہ داریوں پر تعیناتی کا ذکر کیا گیا ہے۔سی ٹی ڈی کے حوالے سے جون 2026 میں سامنے آنے والی سرکاری پولیس دستاویزات پر مبنی رپورٹ کے مطابق محکمے میں مجموعی طور پر 3 ہزار 844 اہلکار موجود ہیں، تاہم ان میں صرف 25 مستقل ملازمین ہیں جبکہ بڑی تعداد عارضی طور پر پولیس کے دیگر شعبوں سے تعینات اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس پورے صوبے کے لیے صرف 17 بلٹ پروف ڈبل کیبن گاڑیاں موجود ہیں۔دستاویزات کے مطابق سی ٹی ڈی کو جدید فرانزک سہولیات، لوکیٹرز، جیمرز، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر تکنیکی وسائل کی بھی ضرورت ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کے لیے 7.77 ارب روپے سے زائد کی منظوری دی گئی، جس میں سے 7.05 ارب روپے جاری ہوچکے ہیں، جبکہ مزید گاڑیوں اور جدید آلات کی فراہمی کے منصوبے بھی جاری ہیں۔خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اس کے برعکس مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں پولیس کے لیے 191.39 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق پولیس کے لیے اسلحہ و گولہ بارود، بلٹ پروف گاڑیوں، ٹروپ کیریئرز، تھرمل کیمروں، اینٹی ڈرون سسٹمز اور جیمرز سمیت مختلف مدات میں رقوم مختص کی گئی ہیں۔دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت کے پیش نظر خیبر پختونخوا پولیس نے مارچ 2026 میں ملک کا پہلا باقاعدہ یو اے وی ڈویژن بھی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ مختلف اضلاع میں جدید آلات اور بلٹ پروف گاڑیاں بھی فراہم کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔دوسری جانب ستمبر 2026 میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا پولیس کے وسائل اور مجوزہ پولیس قانون پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پولیس کے لیے بلٹ پروف جیکٹس، گاڑیوں، سیف سٹی نظام اور فرانزک لیبارٹریز سمیت بنیادی سہولیات کی کمی کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے والے صوبے میں پولیس کو جدید وسائل فراہم کیے جانے چاہییں۔خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے تاہم مختلف مواقع پر فورس کو جدید آلات اور سہولیات سے لیس کرنے کے اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، بلٹ پروف گاڑیوں اور دیگر سازوسامان کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔
یوں خیبر پختونخوا میں پولیس کی استعدادِ کار کا معاملہ صرف مالی وسائل تک محدود نہیں بلکہ افرادی قوت، مستقل سی ٹی ڈی عملے، جدید گاڑیوں، فرانزک سہولیات، نگرانی کے نظام اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار میں وسائل بڑھانے کے اقدامات کا ذکر ہے، جبکہ مختلف رپورٹس اور سیاسی بیانات میں ان وسائل کے عملی استعمال اور پولیس کی ضروریات پوری ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔