سہیل آفریدی کو ہٹانے کا پیغام ،بیرسٹر گوہر کی تردید

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان نیوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کارکردگی اور اسلام آباد مارچ نہ کرنے پر مایوسی اور برہمی کا اظہار کیا ہے اور ان کو ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ بیرسٹر گوہر نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کو عمران خان کو اعتماد حاصل ہے ، ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان نے اپنی بہن نورین نیازی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے میرے لیے کچھ نہیں کیا، میں نے تو پہلے بھی وکیل کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ وہ وزارتِ اعلیٰ چھوڑ دیں،نورین نیازی نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے تو عمران خان نے واضح اور سخت ترین مئوقف اپنایا،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے ہدایت کی کہ اگر سہیل آفریدی 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ لے کر نہیں نکلتے تو ان کے خلاف فوری طور پر عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں، علی امین کو بھی یہی پیغام دیں کہ مارچ نکالنے کی صورت میں سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد لائی جائے،ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عمران خان کی بہن نورین نیازی کا یہ پیغام جیسے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی تک پہنچا تو انہوں نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مارچ اور احتجاج کے پروگرام میں فوری اور اچانک تبدیلی کی،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس تمام صورتِ حال میں ایک اہم وفاقی وزیر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کے درمیان مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کے لیے باقاعدہ بات چیت جاری ہے،دوسری طرف تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے خبروں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کر دی اور واضح کیا ہے کہ عمران خان نے سہیل آفریدی کے خلاف کوئی پیغام نہیں بھیجا،میڈیا کو جاری اپنے مئوقف میں انہوں نے ایسی تمام خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نازک اور حساس سیاسی صورتِ حال میں اس نوعیت کی من گھڑت خبریں چلانا انتہائی نامناسب طرزِ عمل اور سازش ہے، سہیل آفریدی کو عمران خان کا مکمل، غیر متزلزل اور پختہ اعتماد حاصل ہے اور پورے صوبے سمیت پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور تمام ارکانِ اسمبلی ان کی مکمل حمایت کر رہے ہیں ،دریں اثنا عمران خان کی فیملی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نورین نیازی اور عمران خان کی ملاقات سے متعلق جو خبریں چلائی جا رہی ہیں وہ بالکل لغو ہیں، اس ملاقات سے منسوب کرکے میڈیا میں جو بیانات اور گفتگو نشر کی جا رہی ہے اس میں سچائی کا کوئی عنصر موجود نہیں بلکہ تمام دعوے من گھڑت ہیں جن کا اس گفتگو سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے جو ان کے درمیان ہوئی تھی،اعلامیے میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق نورین نیازی کی عمران خان سے آخری ملاقات 25 اگست 2026ء کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی، جس کی تفصیل انہوں نے کسی کے ساتھ شیئر نہیں کی ،عمران خان کے اہل خانہ نے اس امر پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا کہ اس قسم کا من گھڑت اور منسوب بیانیہ ایک ایسے وقت میں جان بوجھ کر پھیلایا جا رہا ہے جب نورین نیازی کو بلاوجہ اور غیر قانونی طور پر تحویل میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کے پاس ان من گھڑت دعووں کی تردید یا وضاحت کرنے کا کوئی موقع بھی میسر نہیں، خاندان نے ان تمام جعلی رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عوام اور میڈیا سے ایسی افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی ہے۔