11مرکزی روٹس پرمین ہولز کی غلط تنصیب، ٹریفک جام، گاڑیوں کو نقصان،موٹر سائیکل حادثات کی بھی بڑھ گئے
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور کی اہم شاہراہوں پر مین ہولز کی اونچ نیچ نے ٹریفک کانظام بری طرح متاثر،11مرکزی روٹس کے تفصیلی جائزے میں سینکڑوں مقامات پر سنگین نقائص سامنے آگئے۔انتظامی اداروں کی غفلت، ناقص انجینئرنگ نے زندگی مشکل بنا دی۔ شہر کی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک سست روی اور روز مرہ حادثات کی بنیادی وجہ سامنے آ گئی۔ 11مرکزی روٹس پرمین ہولز کی غلط تنصیب نے ٹریفک کا پورا بہاو متاثر کر رکھا ہے۔فیروزپور روڈ پر مصطفیٰ آباد سے قرطبہ چوک تک تین سو مقامات پرمین ہولز یا تو سڑک سے اونچے بنائے گئے، یا سطحِ سڑک سے نیچے جوٹریفک جام، گاڑیوں کو نقصان اور موٹر سائیکل سواروں کو حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔کینال روڈ پر واہگہ سے ٹھوکر نیاز بیگ تک 52 مقامات ٹریفک انجینئرنگ کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔مصروف ترین کوریڈور پر یہ مین ہولز ہر لمحہ ڈرائیورز کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔جی ٹی روڈ، کوآپ سٹور سے واہگہ تک 20 پوائنٹس پربھاری ٹریفک روزانہ اونچے نیچے ڈھکنوں کی وجہ سے لڑکھڑاتی ہے۔ مال روڈ پر لوئر مال سے شامی روڈ تک 20 غلط تنصیبات مشکلات بڑھارہی ہیں۔مولانا شوکت علی روڈ پر کریم بلاک گول چکر سے پیکو موڑ تک 57 مقامات پرمین ہولز سڑک کے لیول سے باہر ہیں۔لوئر مال پر چوبرجی سے بھاٹی چوک تک 45 خطرناک جگہوں کی نشاندہی ہوئی۔ملتان روڈ پر مانگا منڈی اور کوٹ اسد اللہ خان سے چوبرجی تک 127 مقامات ناقص تنصیب کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔واسا، ایل ڈی اے اور ٹیپا کی کوتاہی یہاں واضح نظر آتی ہے۔راوی روڈ پر بھاٹی سے شاہدرہ تک 24 مقامات پر مین ہولز کی غلط فٹنگ ٹریفک کو متاثر کررہی ہے۔سرکلر روڈ آزادی چوک سے ریلوے سٹیشن تک 7 پوائنٹس جبکہ پیکو موڑ سے فیروزپور روڈ تک 4 مقامات بھی شہریوں کیلئے مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ برسوں سے مین ہولز کو لیول کرنے پرتوجہ نہیں دی گئی۔