ہائیکورٹ کو ماتحت عدالتیں سپروائز کرنے کا اختیار ہے:جسٹس محسن کیانی

 ہائیکورٹ نے دیکھنا ہے  نیچے کی عدالتوں میں کیسے کام ہو رہا ہے:کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس
اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ میں قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم ذیشان مسیح کی اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاہے  غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئیں، ہم نے سیکھنا ہے، ہائیکورٹ کا ماتحت عدالتوں کو سپروائز کرنے کا اختیار ہے، ہائیکورٹ نے دیکھنا ہے کہ نیچے کی عدالتوں میں کیسے کام ہو رہا ہے ‘جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہاکہ بار سے کوئی جا کر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں؟ ایسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے جو بغیر گواہوں کے فیصلہ کر دیتے ہیں، ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ پراسیکیوٹرز کی تو ٹریننگ کرائیں۔بدھ کو عدالت نے استفسار کیا کہ ایک ہی وقوعہ کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا ٹرائل و فیصلہ کیسے کیا گیا؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر لیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایک ہی وقوعہ تھا، 2 ٹرائل الگ الگ کر دیے گئے، یہ قانونی سوال ہے، وکیل دوسرے ٹرائل سے شہادت دکھا رہے ہیں تو وہ عدالت کیسے دیکھ سکتی ہے؟جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وکلا چیف جسٹس سے مل کر بتائیں کہ جج صاحب نے یہ آرڈر کر دیا ہے