کاشف بٹ
لاہور سمیت پورے پنجاب میں ٹریفک قوانین میں سخت ترامیم کی منظوری بظاہر ایک خوش آئند قدم ہے۔ جرمانے بڑھانا، وائلیشنز پر ایف آئی آر کا اندراج، ڈرائیونگ لائسنس کے پوائنٹس کا کٹنا، کم عمر ڈرائیونگ پر کارروائی اور سیاہ شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف مقدمات… کاغذ پر سب کچھ بہترین دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ قوانین واقعی ٹریفک نظم و ضبط بہتر کرنے کیلئے لائے گئے ہیں یا پھر صوبے کی کمزور معیشت میں حکومت کیلئے آمدن بڑھانے کا نیا ذریعہ؟پنجاب وہ صوبہ ہے جہاں صرف ایک سٹے آرڈر پر لاکھوں لوڈر رکشے روزانہ سڑکوں پر آجاتے ہیں، جن کی نہ رجسٹریشن ہے، نہ شناخت، نہ معیار کی کوئی گارنٹی۔ چنگ چی رکشے تو یوں لگتے ہیں جیسے شہر کے نقشے میں شامل ہی نہیں بلکہ اپنی الگ دنیا کے شہری ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں بغیر نمبر پلیٹ کے یہ چنگ چی رکشے ٹریفک پولیس کی آنکھوں کے سامنے دھڑا دھڑ چلتے ہیں، کسی کو پرواہ نہیں۔
سڑکوں پر ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹس کا راج ہے۔ جس گلی میں جائیں، کوئی نہ کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل جعلی یا ڈپلیکیٹ نمبر پر دوڑ رہی ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود ٹریفک پولیس کا سارا زور اور پوری کارکردگی صرف "چالان پورے کرنے" تک محدود نظر آتی ہے۔ شہری اکثر شکایت کرتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کی پرفارمنس چالان کی تعداد سے ناپی جاتی ہے، نہ کہ نظم و ضبط بہتر بنانے سے۔
پھر بات آتی ہے ڈرائیونگ لائسنس کی… "ریوڑیوں کی طرح" پچھلے کئی برسوں میں لائسنس تقسیم کیے گئے۔ نہ تربیت، نہ اسسمنٹ، نہ ڈرائیونگ رویّوں پر کوئی چیک۔ آج سڑکوں پر ایسے ہزاروں ڈرائیور موجود ہیں جنہیں ہینڈ بریگ اور ہیزرڈ لائٹس کا فرق تک معلوم نہیں۔ایسے صوبے میں، جہاں ریاست نے خود آنکھیں بند کر رکھی ہوں، وہاں اگر اچانک جرمانے پانچ ہزار سے بیس ہزار تک کر دیے جائیں، تو یہ سوال خودبخود جنم لیتا ہے کہ کیا یہ واقعی اصلاح ہے یا پھر خزانہ خالی ہونے کے بعد شہریوں کی جیبوں پر ڈاکا؟
موجودہ حالات میں جب ملک کی بیشتر فیکٹریاں بند پڑی ہیں، کاروبار سست روی کا شکار ہیں، اور بے روزگاری اپنی انتہا پر ہے، تو حکومت کیلئے آمدن بڑھانے کا آسان ترین طریقہ یہی نظر آتا ہے کہ ٹریفک قوانین کو مزید سخت کرکے شہریوں سے زیادہ سے زیادہ جرمانے وصول کیے جائیں۔ جرمانے اتنے بڑھا دیے گئے ہیں کہ اب شہری قانون کی پاسداری نہیں بلکہ "قانون سے بچنے" کے نئے طریقے ڈھونڈنے پر مجبور ہوں گے۔اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا غیر رجسٹرڈ لوڈر رکشے بند ہوں گے؟کیا بغیر نمبر پلیٹ چنگ چی سڑکوں سے ہٹیں گے؟
کیا جعلی نمبر پلیٹس کا خاتمہ ہوگا؟کیا لائسنس کا معیار بہتر ہوگا؟کیا ٹریفک پولیس عوامی خدمت اور نظم و ضبط کی طرف واپس آئے گی؟
جب تک ان بنیادی مسائل پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، تب تک جرمانے بڑھانا صرف مزاح ہی محسوس ہوگا—وہی مزاح جو برسوں سے پنجاب کے ٹریفک نظام میں جاری ہے۔اگر حکومت واقعی ٹریفک سسٹم بہتر کرنا چاہتی ہے تو پہلے سڑکوں پر موجود بیقاعدگیوں کا خاتمہ کرے، ناجائز
گاڑیوں کو بند کرے، اصل ٹریفک مجرموں کو گرفت میں لائے، پھر قوانین سخت کرے۔ ورنہ یہ قوانین شہریوں کیلئے نہیں بلکہ خزانے کے لیے ہوں گے۔اور عوام یہی سوچیں گے کہ شاید اب حکومت کو ٹریفک جرمانوں میں ہی "نئی انڈسٹری" نظر آگئی ہے۔