حرام کمائی: عارضی فائدہ، دائمی خسارہ

محمد باقر جاوا
حرام کمائی کا مفہوم محض چوری، ڈاکہ یا رشوت تک محدود نہیں۔۔ یہ ہر اس آمدنی پر صادق آتا ہے جو کسی غلط، ناجائز یا غیر اخلاقی ذریعے سے حاصل کی جائے۔۔ چاہے وہ عوامی خزانے سے خرد برد ہو، کسی کے حق پر ڈاکہ ہو، جھوٹ کے ذریعے کاروبار میں ناجائز منافع حاصل کرنا ہو یا کسی کمزور کو دھوکہ دے کر اس کی محنت کا پھل چھین لینا۔ معاشرے میں بہت سے لوگ خود کو چالاک سمجھ کر ناجائز  ذرائع اختیار کرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا کے قانون سے بچ جانا ممکن ہے لیکن خدا کے قانون سے نہیں بچا جا سکتا۔
حرام کی کمائی انسان کے ضمیر، اس کے گھر، اس کی نسل اور اس کی آخرت کو برباد کر دیتی ہے۔ امام موسیٰ کاظم کا فرمان کہ ’’حرام کے مال میں اضافہ نہیں ہوتا اور اگر اضافہ ہو بھی جائے تو برکت نہیں ہوتی‘‘ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیاوی اعتبار سے چاہے مال بڑھ  بھی جائے لیکن روحانی اور اخلاقی لحاظ سے انسان کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ رزقِ حلال وہ بنیاد ہے جس پر ایمان، عبادت اور اخلاق کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، اور جب بنیاد ہی ناپاک ہو تو عمارت کے قائم رہنے کا کیا سوال۔۔حرام مال کی نحوست سب سے پہلے دل میں اثر کرتی ہے۔ انسان کا دل سخت ہو جاتا ہے، اسے نیکی میں لطف نہیں آتا، عبادت میں خشوع پیدا نہیں ہوتا اور دعا میں اثر باقی نہیں رہتا۔ انسان اپنے گناہ کے بوجھ کو سمجھ نہیں پاتا مگر وہ اس کی زندگی سے سکون چھین لیتا ہے۔ امام جعفر صادق کا قول ہے کہ  ’’  جو شخص حرام کھاتا ہے، اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ ‘‘یہ روحانی اثر کسی جسمانی زہر سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ انسان کے اندر سے ایمان کی روشنی کو بجھا دیتا ہے۔۔حرام کمائی کا دوسرا نقصان گھر اور خاندان میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ رزق جو حرام سے حاصل ہو جب بچوں کے پیٹ میں جاتا ہے تو ان کے اخلاق، ان کی سوچ اور ان کے اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کسی  بزرگ  کا قول ہے کہ حرام لقمہ نسلوں کو بگاڑ دیتا ہے۔۔حرام  لقمے سے پلنے والے بچے علم تو حاصل کر سکتے ہیں مگر ان کے کردار میں استقامت نہیں ہوتی۔ وہ دولت تو بنا سکتے ہیں مگر انصاف، رحم اور خوفِ خدا سے عاری ہو جاتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں بے ایمانی، جھوٹ  اور رشوت عام ہیں وہاں والدین کی یہ ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے  صرف پاک رزق فراہم کریں، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
حرام مال بظاہر فراوانی دیتا ہے لیکن اس میں اطمینان نہیں ہوتا۔ انسان زیادہ کماتا ہے مگر سکون کم ہوتا جاتا ہے۔ گھروں میں لڑائیاں بڑھتی ہیں، برکت ختم ہو جاتی ہے، بیماریوں اور مصیبتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’  اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے"۔۔ یعنی جو کمائی ناپاک ہو اللہ اس سے برکت ختم کر دیتا ہے۔ بہت سے لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کی دولت بڑھ رہی ہے، گاڑیاں، جائیدادیں، کاروبار پھیل رہے ہیں مگر پھر بھی دل میں بے چینی ہے، گھر میں سکون نہیں، عزت نہیں، محبت نہیں۔ یہ سب اس 
بات کی علامت ہے کہ دولت میں برکت نہیں۔
حرام کمائی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کے ضمیر کو مار دیتی ہے۔ جب کوئی شخص ایک بار غلط راستے پر چلنے لگتا ہے تو پھر اسے اپنے عمل میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔امام موسیٰ کاظم نے فرمایا کہ ’’ جو کوئی حرام مال پیچھے چھوڑ جاتا ہے، تو اس کا راستہ جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں۔ ‘‘  یہ جملہ اس انجام کی نشاندہی کرتا ہے جو دنیا کے فریب سے دھوکا کھانے والے انسان کا مقدر بنتا ہے۔حرام کی کمائی انسان کو دوسروں پر ظلم کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ جب انسان ناجائز مال سے طاقتور ہوتا ہیتو اسے اپنی حیثیت کے غلط استعمال کی عادت ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ دولت ہی سب کچھ ہے، عزت، طاقت، اثر، سب اسی سے ملتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتا ہے کہ عزت وہی ہے جو خدا دے اور جب خدا ناراض ہو جائے تو دنیا کی کوئی دولت اسے بچا نہیں سکتی۔ ایسے لوگ اکثر اپنے انجام پر رسوا ہوتے ہیں۔۔ کبھی کرپشن کے مقدمات میں، کبھی عوام کے غیظ و غضب میں، کبھی اپنے ہی اہلِ خانہ کی نفرت میں۔
اسلام میں حرام کمائی سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے کیونکہ یہ صرف ایک شخص کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا زہر ہے۔ جب معاشرے میں لوگ حرام ذرائع سے مال کمانا شروع کرتے ہیں تو عدل کا نظام ٹوٹ جاتا ہے، اعتماد ختم ہو جاتا ہے، دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے اور غریب مزید غریب ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو معاشی اور اخلاقی بگاڑ کی جڑ ہے۔ اگر ہر شخص صرف اپنی کمائی کو حلال رکھنے کا عہد کر لے تو معاشرتی انصاف خود بخود قائم ہو جائے۔۔۔حرام کمائی سے وابستہ ایک فریب یہ بھی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس مال میں سے صدقہ یا خیرات کر دیں تو گناہ کم ہو جائے گا۔ مگر امام موسیٰ کاظم کے فرمان کے مطابق جو کچھ حرام مال سے انفاق کیا جائے، اس کا ثواب نہیں ملتا۔ یعنی خدا کے ہاں ناپاک چیز قبول نہیں۔ نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اگر ذریعہ ناپاک ہے تو عمل مقبول نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی گندے پانی سے وضو کرے اور نماز پڑھنے بیٹھ جائے۔ عبادت کا ظاہری ڈھانچہ تو موجود ہے مگر روح نہیں۔۔دنیا کے ہر مذہب اور اخلاقی نظام میں محنت سے حاصل کیا ہوا رزق ہی باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ انسان کی عزت اس کے خلوص، اس کی دیانت اور اس کی محنت میں ہے۔ رزقِ حلال وہ نعمت ہے جس میں کمائی کم ہو سکتی ہے مگر سکون زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ چاہے معمولی کاروبار کرتے ہوں مگر ان کے گھروں میں محبت، اطمینان اور دعاؤں کی روشنی ہوتی ہے۔ جبکہ حرام کمائی سے حاصل شدہ محل بھی قبر کی تاریکی کو کم نہیں کر سکتا۔
اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ معاشرے میں بے برکتی کی ایک عام فضا ہے۔ تنخواہیں بڑھتی ہیں مگر اخراجات قابو سے باہر۔ کاروبار پھیلتے ہیں مگر قرض ختم نہیں ہوتا۔ بیماریاں بڑھتی ہیں، جھگڑے عام ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ کہیں نہ کہیں ہمارے رزق میں ناپاکی داخل ہو چکی ہے۔ جب قومیں اجتماعی طور پر حرام کمائی کی عادی ہو جائیں تو ان پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔ وہ زوال پذیر ہو جاتی ہیں، ان کے حکمران بدعنوان، ادارے کرپٹ  اور عوام بے حس ہو جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اجتماعی اور انفرادی سطح پر خود احتسابی کریں۔ کیا ہمارا روزگار، ہمارا کاروبار، ہماری کمائی واقعی حلال ہے؟ اگر نہیں تو ہمیں فوراً توبہ کرنی چاہیے اور پاک ذریعہ اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن میں وعدہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا 
راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔۔یعنی حلال کمائی کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، بس نیت صاف ہونی چاہیے۔۔حرام کمائی بظاہر وقتی آسائش دیتی ہے مگر دائمی تباہی لاتی ہے۔ یہ دنیا کی چند لمحوں کی خوشی کے بدلے میں آخرت کے عذاب کا سودا ہے۔۔ جو انسان حرام کمائی میں ڈوبا ہے وہ دراصل جہنم کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ انسان اگر اپنی زندگی کو سکون، اپنی نسل کو برکت اور اپنی آخرت کو نجات دینا چاہتا ہے تو اسے اپنی کمائی کو پاک رکھنا ہوگا۔ رزق حلال صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ روح کو پاک رکھنے کا وسیلہ ہے اور یہی وہ رزق ہے جو دلوں میں روشنی، گھروں میں برکت اور اعمال میں قبولیت پیدا کرتا ہے۔