ڈھاکا:بنگلا دیش میں ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل کر عبوری حکومت سے فوری عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر محمد یونس بیرون ملک، ملک میں سیاسی بے چینی
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بنگلا دیش کے عبوری سربراہ ڈاکٹر محمد یونس ان دنوں جاپان کے دورے پر ہیں، جبکہ ملک میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ اگست 2024ء میں ہونے والے پے در پے مظاہروں کے بعد اُس وقت کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں، جس کے بعد ڈاکٹر محمد یونس کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
الیکشن پر ڈیڈلاک
اپوزیشن جماعت بنگلادیشن نیشنل پارٹی (بی این پی) کی قیادت خالدہ ضیاء نے رواں سال دسمبر 2025ء میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب، عبوری سربراہ ڈاکٹر یونس پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ انتخابات جون 2026ء میں ہوں گے۔اسی مطالبے کو بنیاد بنا کر عوامی احتجاج میں تیزی آ گئی ہے۔
فوجی قیادت کا مؤقف
رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش کے آرمی چیف نے بھی دسمبر 2025ء میں عام انتخابات کرانے کی حمایت کر دی ہے، جس سے موجودہ عبوری حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
عوامی لیگ پر پابندی
خبر ایجنسی کے مطابق بنگلا دیش کی سابق حکمران جماعت عوامی لیگ، جس کی قیادت شیخ حسینہ کرتی تھیں، پر ملک میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی میدان میں بی این پی کو اہم حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
مظاہرین کے نعرے اور مطالبات
ڈھاکا سمیت کئی بڑے شہروں میں عوامی مظاہرین نے "فوری انتخابات"، "جمہوریت کی بحالی" اور "سیاسی قیدیوں کی رہائی" کے نعرے لگائے۔ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔