پشاور : خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) پشاور میں ہراسمنٹ کے ایک سنگین کیس کی مؤثر اور شفاف تحقیقات کے بعد فیصلہ سنایا گیا ہے جس کے تحت ایک گریڈ 18 کے افسر کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزم طالب علم کو مستقل طور پر یونیورسٹی سے خارج کر کے مستقبل میں داخلے سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔
یہ کیس 18 مئی کو یونیورسٹی کے امتحانی ہال میں پیش آنے والے ہراسمنٹ کے واقعے سے متعلق تھا، جس کی شکایت فوری طور پر وائس چانسلر KMU کو موصول ہوئی۔ واقعے کی رپورٹ پر جامعہ نے فوری طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی جو 19 مئی سے 23 مئی تک مکمل شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ تحقیقات کرتی رہی۔
فیصلہ اور سزائیں
26 مئی کو انکوائری کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے گریڈ 18 کے افسر کو ملازمت سے برخاست کر دیا، جو تقریباً 17 سال کی سروس کا حامل تھا۔ ساتھ ہی مرکزی ملزم طالب علم کو مستقل طور پر یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا اور آئندہ کے لیے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دیگر ملوث طلبہ کو معمولی سزائیں دی گئی ہیں۔
حکومت اور یونیورسٹی کی کارکردگی کی تعریف
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا مینا خان آفریدی نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے جامعہ کے عملے کو شاباش دی اور کہا کہ KMU نے ہراسانی کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وقار اور محفوظ تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت مثال ہے کہ کیسے تعلیمی ادارے اپنے طلبہ کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔
جامعہ کا مؤقف
خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے اس اقدام کو اپنی ذمہ داری کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی ہراسانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور طلبہ کو ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا یونیورسٹی کی اولین ترجیح ہے۔