کلرسیداں مدرسہ طالب علم تشدد کیس میں اہم پیش رفت، مرکزی ملزم استاد گرفتار

کلرسیداں مدرسہ طالب علم تشدد کیس میں اہم پیش رفت، مرکزی ملزم استاد گرفتار

راولپنڈی: کلرسیداں میں مدرسے کے 11 سالہ طالب علم کے مبینہ تشدد سے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزم مقتول طالب علم کا مدرسے کا استاد بتایا گیا ہے۔

مرکزی ملزم کیسے گرفتار ہوا؟
راولپنڈی پولیس کے مطابق مرکزی ملزم واقعے کے بعد اسپتال سے مقتول طالب علم کی میت کے ہمراہ اس کے آبائی گاؤں گیا تھا، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر فرار ہوگیا۔واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ پولیس ٹیموں نے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں اور تلاش جاری رکھی، جس کے بعد بالآخر مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

مقدمے میں پہلے بھی 2 گرفتاریاں
پولیس ترجمان کے مطابق مرکزی ملزم کی گرفتاری سے قبل بھی مقدمے میں دو افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس اب تمام گرفتار ملزمان سے تفتیش کررہی ہے تاکہ واقعے کے اصل حقائق سامنے لائے جاسکیں۔تفتیشی ٹیمیں یہ بھی جاننے کی کوشش کررہی ہیں کہ طالب علم پر مبینہ تشدد کب اور کس صورتحال میں کیا گیا اور اس میں کون کون افراد ملوث تھے۔

ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان ہوگا
ایس پی صدر انعم شیر نے کہا ہے کہ مقدمے میں ملزمان سے میرٹ پر تفتیش کی جائے گی اور تمام دستیاب شواہد اکٹھے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کا چالان ٹھوس شواہد کی بنیاد پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ایس پی صدر نے واضح کیا کہ بچوں پر تشدد کسی صورت قابل برداشت نہیں اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی کوشش ہے کہ مقدمے کی تفتیش مؤثر انداز میں مکمل کرکے ذمہ دار ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔

بچوں پر تشدد کے خلاف سخت کارروائی کا عزم
مدرسے کے کم عمر طالب علم کی مبینہ تشدد سے ہلاکت نے بچوں کے تحفظ اور تعلیمی و مذہبی اداروں میں جسمانی سزا کے معاملے پر بھی تشویش پیدا کردی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی بچے پر تشدد کو معمولی واقعہ نہیں سمجھا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد اب تفتیش کا اہم مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی اور اگر کسی دوسرے شخص کا کردار ثابت ہوا تو اسے بھی قانون کے مطابق مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔