معجزہ: جاپان میں دو ایٹمی حملوں میں بچنے والے واحد شخص تسوتومو یاماگوچی کی داستان حیات

معجزہ: جاپان میں دو ایٹمی حملوں میں بچنے والے واحد شخص تسوتومو یاماگوچی کی داستان حیات

ویب ڈیسک: تاریخ کے تلخ ترین ایام میں ایک ایسا واقعہ بھی سامنے آیا جسے معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔

جاپان میں 1945 میں امریکی ایٹمی حملوں کے دوران ایک شخص معجزانہ طور پر دونوں حملوں سے بچ نکلا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق، تسوتومو یاماگوچی وہ خوش نصیب جاپانی تھے جو نہ صرف ہیروشیما بلکہ ناگاساکی پر ہونے والے ایٹمی حملوں میں زندہ بچنے والے واحد شہری تھے۔ جاپانی حکومت نے انہیں سرکاری طور پر دونوں ایٹمی حملوں میں بچ جانے والا تسلیم کیا تھا۔تسوتومو یاماگوچی اس وقت 28 سال کے تھے اور متسوبوشی کمپنی ناگاساکی میں انجینئر کے طور پر کام کرتے تھے۔ 6 اگست 1945 کو وہ کاروباری دورے پر ہیروشیما میں موجود تھے کہ امریکی فوج نے پہلا ایٹم بم "لٹل بوائے" ہیروشیما پر گرایا۔ وہ بم گرنے کے مقام سے تقریباً 3 کلومیٹر دور تھے، جس کے باعث ان کی جلد جلی اور سماعت متاثر ہوئی، مگر وہ معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے۔

مزید برآں، اس کے صرف ایک دن بعد، 9 اگست 1945 کو، تسوتومو زخمی حالت میں اپنے آبائی شہر ناگاساکی واپس پہنچے جہاں امریکی فوج نے دوسرا ایٹم بم "فیٹ مین" گرا دیا۔ وہ اپنے دفتر میں میٹنگ کے دوران اس بمباری کا شکار ہوئے مگر اس بار بھی وہ جان بچانے میں کامیاب رہے۔جاپانی حکومت نے 2009 میں تسوتومو یاماگوچی کو "nijū hibakusha" یعنی "دو بار ایٹمی حملے میں بچنے والا" کا خصوصی اعزاز دیا۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں تسوتومو نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف مہم بھی چلائی۔

تسوتومو یاماگوچی 4 جنوری 2010 کو 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، لیکن ان کی داستان ہمت اور بقا آج بھی یادگار ہے۔