ماؤنٹ ایورسٹ پر لاپتہ نیپالی شیرپا گائیڈ ایک ہفتے بعد زندہ مل گیا، معجزہ قرار

ماؤنٹ ایورسٹ پر لاپتہ نیپالی شیرپا گائیڈ ایک ہفتے بعد زندہ مل گیا، معجزہ قرار

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ پر ایک حیران کن واقعے میں لاپتہ ہونے والا نیپالی شیرپا گائیڈ ایک ہفتے بعد زندہ حالت میں مل گیا، جسے ماہرین انتہائی سخت موسمی حالات میں بقا کی غیر معمولی مثال قرار دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 52 سالہ داوا شیرپا ایک پولش کوہ پیما کے ساتھ چوٹی سر کرنے کی کوشش کے بعد واپسی کے سفر پر تھا، تاہم کیمپ تھری اور کیمپ فور کے درمیان اچانک لاپتہ ہو گیا۔ دونوں کوہ پیما چوٹی تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے اور واپسی کا سفر کر رہے تھے۔رپورٹس کے مطابق پولش کوہ پیما محفوظ طور پر بیس کیمپ واپس پہنچ گیا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ راستے میں دونوں ایک دوسرے سے کب اور کیسے جدا ہوئے۔ داوا شیرپا کو آخری بار 29 مئی کو دیکھا گیا تھا، جس کے بعد اس کی تلاش جاری رہی۔ابتدائی طور پر اس کے زندہ ملنے کی امید تقریباً ختم ہو چکی تھی، لیکن سیزن کے اختتام پر صفائی مہم میں مصروف ریسکیو ٹیم کو کھمبو آئس فال کے قریب، بیس کیمپ سے اوپر کے علاقے میں اس کا سراغ ملا۔ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے محفوظ مقام پر منتقل کیا اور بعد ازاں اسپتال پہنچایا۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ شدید سردی، آکسیجن کی کمی اور بلند پہاڑی ماحول کے اثرات سے متاثر ہے، جن میں فراسٹ بائٹ اور دیگر پیچیدگیاں شامل ہیں، تاہم اس کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔

رواں سیزن میں نیپال محکمہ سیاحت کے مطابق ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنے کے لیے 494 پرمٹ جاری کیے گئے تھے، جبکہ تقریباً ایک ہزار کوہ پیما اور گائیڈز نے چوٹی سر کرنے کی کوشش کی۔حکام کے مطابق اس سیزن کے دوران 5 افراد اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے، جو اس خطے کی خطرناک موسمی اور جغرافیائی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق داوا شیرپا کا زندہ بچ جانا اس بات کی علامت ہے کہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی انسانی برداشت اور بقا کی صلاحیت حیران کن حد تک مضبوط ہو سکتی ہے۔