سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے علاوہ قوم کے ساتھ خطاب میں واضح کیاجائے کہ ان مذاکرات پرکس ایجنڈے پربات ہوگی تاکہ قوم کااعتمادآپ کی پشت پرہو۔
یادرکھیں کہ مذاکرات سے قبل پاکستان کوکئی چیلنجزکاسامناکرنے کابھی اندیشہ ہے جس میں سب سے پہلے بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیرکواپنا’’اندرونی معاملہ ‘‘ بتاتے ہوئے اس مسئلے پربات چیت سے انکارکرسکتاہے۔اس صورت میں پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ مذاکرات سے پہلے چین،ترکی،اوراسلامی ممالک(سعودی عرب،یواے ای،قطر)کی حمایت سے بھارت پربین الاقوامی دباؤبڑھائے۔
پاکستان کوامریکاکے دوغلے رویے سے بھی خبرداررہنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکابیک وقت بھارت کوفوجی اتحاد(کواڈ)اور پاکستان کودہشتگردی کے خلاف اتحادی سمجھتاہے ۔ پاکستان کوچاہیے کہ وہ چین اورروس کے ساتھ تعلقات کومضبوط کرے تاکہ امریکا کے یکطرفہ اثرات کومتوازن کیاجاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کوکشمیری عوام کی آوازکوعالمی
سطح پراٹھانے کیلئے سوشل میڈیااوربین الاقوامی میڈیاکواستعمال کرناچاہیے۔
یقینا وزارتِ خارجہ آئندہ ہونے والے مذاکرات کیلئے اپنے ایجنڈے کی نوک پلک سنواررہے ہوں گے تاہم آئندہ مذاکرات کیلئے پانچ ترجیحی نکات کو شامل کرناازحدضروری ہے ۔پاکستان کے مذاکراتی ایجنڈامیں کلیدی نکات اوردلائل میں تنازعہ کشمیربنیادی نقطہ ہوناچاہئے۔پاکستان کامضبوط قانونی مؤقف اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں جن پرعملدرآمد کو ضروری بنایاجائے۔ڈائیلاگ ایجنڈا کی وضاحت کیلئے ضروری ہے کہ مذاکرات کاآغاز صرف اسی صورت میں ہوجب بھارت کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرے،معاشی یاتجارتی موضوعات کوبعدمیں شامل کیاجائے۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کالائحہ عمل طے کیاجائے اورایل اوسی پرجنگ بندی کی مستقل نگرانی کامطالبہ کیاجائے اور خلاف ورزی کرنے والے کے احتساب کیلئے اصول وضع کئے جائیں۔
1948اور1949کی قراردادیں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کوتسلیم کرتی ہیں۔قرارداد47،51اوردیگرقراردادیں جن پربھارت اورپاکستان دونوں نے ان پر دستخط کیے ہیں اور پانچ عالمی طاقتیں اس معاہدے کی ضامن بھی ہیں۔بھارت نے5/اگست2019کوآرٹیکل370اے اورآرٹیکل35کومنسوخ کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی جس سے اس نے کشمیریوں سے خودمختاری چھین لی جواقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی صریحاخلاف ورزی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے اصولوں اور چوتھے جنیواکنونشن کی خلاف ورزی ہے۔بین الاقوامی ردعمل کے طورپراوآئی سی،،ہیومن رائٹس واچ،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جہاں انتہائی تشویش کااظہارکیاوہاں یورپی پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پرکئی بار بحث ہوچکی ہے۔
پاکستان کوسفارتی حکمت عملی کے تحت ایک مکمل لائحہ عمل تیارکرناہوگاجس میں مسئلہ کشمیر کیلئے اقوام متحدہ میں مسلسل آواز اٹھانی چاہئے اورعالمی ضامن طاقتوں کی توجہ اس پرمبذول کرواتے ہوئے معاہدہ پرعملدرآمدکیلئے ان کی ذمہ داریوں کامطالبہ کرنا چاہئے۔دوسرا اوآئی سی اوردیگرمسلم تنظیموں کودوبارہ متحرک کیاجائے اوراس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اورامریکی پارلیمانزکو کشمیرکے بارے میں بریفنگ دیکراس خطے کی ایٹمی فلیش پوائنٹ پرتوجہ دلائی جائے۔پاکستان عالمی سطح پریواین جنرل اسمبلی،او آئی سی،ہیومن رائٹس کمیشن میں مسئلہ کشمیرکی مستقل پیروی کرے۔علاوہ ازیں پاکستان کویہ واضح کرناہوگاکہ کشمیرکی آزادی کی تحریک کودہشتگردی کے ساتھ جوڑنابھارت کی جانب سے ایک’’ڈائیورژن‘‘ ہے ۔
کشمیرمیڈیاسیل کوفعال کیاجائے،تاکہ عالمی میڈیامیں پاکستانی مقف اجاگرہو۔اسلامی ممالک کے ساتھ مل کربھارت پرسفارتی اور معاشی دبابڑھایاجائے۔اوآئی سی اوردیگرمسلم تنظیموں کی طرف سے کشمیری مظالم پرمشترکہ بیان جاری کروایاجائے اوریہودوہنود کی تمام مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے بالخصوص اوورسیزپاکستانیوں اورمسلم کمیونٹی کو اس طرف بھرپورراغب کیا جائے۔اس کے ساتھ میڈیاکومکمل طورپراستعمال میں لاتے ہوئے دستاویزی فلمیں،بین الاقوامی میڈیامیں اشتہارات کابندوبست کیاجائے۔سوشل میڈیامہم،انفلوئنسرزکوانگیج کرکے پاکستان کے مقف کی تشہیرکی جائے تاکہ اقوام عالم میں مسئلہ کشمیرکے بارے میں آگہی وادراک کی فضاپیداہو۔یادرہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادیں تاحال موجودہیں اوربھارت بھی ان پردستخط کرچکاہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل،او آئی سی اورعالمی انسانی حقوق کمیشن نے کشمیرکی صورتحال پرتشویش کااظہار کیاہے ۔ دنیااب کشمیری مظالم کومیڈیا،انسانی حقوق تنظیموں،اورڈپلومیسی کے ذریعے جان چکی ہے۔
دوسرااہم نکتہ عالمی میڈیا کی رپورٹس اورمضبوط شواہدکے ساتھ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کامعاملہ ضروراٹھایاجائے کیونکہ عالمی میڈیا میں بھارتی قابض فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں کی درجنوں رپورٹس موجودہیں جس میں مضبوط شواہدکے ساتھ اب تک ایک لاکھ سے زائدکشمیریوں کوشہیدکیاجاچکاہے۔مظلوم کشمیری عوام کی اصل کہانی کوعالمی سطح پراجاگر کرنے کیلئے بھارتی قابض افواج کے مظالم کی سینکڑوں سچی کہانیوں کی تشہیرکیلئے بین الاقوامی میڈیاکااستعمال کیاجائے۔خود بھارتی صحافی کشمیر میں اجتماعی قبروں کاانکشاف کرچکے ہیں۔اب تک ہزاروں نوجوانوں کوگھروں سے اٹھاکرغائب کردیاگیاہے اوراب ان کے والدین اوران کے لواحقین پربھی منہ بندرکھنے کیلئے تشددسے کام لیاجا رہاہے۔ہزاروں کشمیری نوجوان ماورائے عدالت قتل،حراست اورتشددکاشکارہیں۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں ہیومن رائٹس واچ،ایمنسٹی انٹرنیشنل،اوراقوام متحدہ کے ذیلی ادارے مسلسل ان زیادتیوں پررپورٹس جاری کرچکے ہیں۔
وزارت خارجہ ایک’’کشمیرایڈووکیسی ڈیسک‘‘بنائے جوعالمی سفارت خانوں کومسلسل مواد فراہم کرے۔کشمیرپرایک بین الاقوامی دستاویزی فلم تیارکی جائے اورعالمی اداروں کوبھیجی جائے۔اسلامی ممالک میں بھارت کے مظالم کے خلاف عوامی بیداری مہم چلائی جائے۔
تیسرا اہم نکتہ یقیناسندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی پراٹھانے کی ضرورت ہے۔1960میں عالمی بینک کی ثالثی سے ہونے والے اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریابھارت کے اورتین مغربی دریاپاکستان کے حصے میں آئے۔اسے چھیڑنے سے پاکستان کے اصولی مقف میں کمزوری آسکتی ہے۔حالیہ برسوں میں بھارت کی آبی پالیسیزاورڈیمزکی
تعمیرنے اس معاہدے کوغیرمستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔پاکستان کویہ معاہدہ چھیڑے بغیرعالمی عدالت انصاف اورثالثی عدالتوں میں بھارتی خلاف ورزیوں کواٹھاناچاہیے۔
بھارت کی طرف سے آبی جارحیت جیسے منصوبے(کشن گنگا،بگلیہارڈیمزاوررتلے ڈیم)جیسی اسکیمیں اس معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔پاکستان کوثبوتوں کے ساتھ یہ واضح کرناہوگاکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیرمیں ڈیمزاورپن بجلی منصوبے بنائے ہیں،جس سے پاکستان کے پانی کے حقوق متاثرہورہے ہیں۔پاکستان کواس معاہدے کے عمل درآمدکی ضمانتوں پراصرارکرناچاہیے۔عالمی بینک یااقوام متحدہ جیسے اداروں سے درخواست کرناکہ وہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں۔بھارت کے ڈیمزسے نہ صرف پانی کی کمی بلکہ سیلابوں اورماحولیاتی تباہی کاخطرہ بھی ہے،جسے عالمی میڈیامیں اٹھاناضروری ہے اورہندوستان سے آئندہ اس کی خلاف ورزیوں پرعالمی پابندیوں کامطالبہ کرناچاہئے۔
چوتھا نکتہ کنٹرول لائن پراقوام متحدہ کے مبصرگروپس کی واپسی کامطالبہ کرناچاہئے جس کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد موجودہے۔پاکستان کواس کی فعال موجودگی کامطالبہ کرناچاہیے جس کوبھارت قبول نہیں کرتا۔
پانچواں نکتہ جنگی قیدیوں اورلائن آف کنٹرول پرگولہ باری کے مضبوط شواہدکے ساتھ اس کی روک تھام کیلئے ایک نیامعاہدہ مرتب کرناہوگاجس میں جنیواکنونشن کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پرعملدرآمدکیلئے اصول وضوابط طے کرکے اس کی خلاف ورزی کرنے والے کیلئے عالمی عدالت سے فوری سزاکے طورپرعالمی پابندیوں کااطلا ق ہوناچاہئے۔
پاکستان کوثابت کرناہوگاکہ سی پیک خطے کی معاشی ترقی کیلئے اہم ہے،اوربھارت اسے ناکام بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ جس طرح سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی زرعی زندگی کاضامن ہے،ایسے ہی سی پیک کی اہمیت پاکستان کیلئے ہے اوراس پر بھی کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش زیادہ تر’’علامتی‘‘ہے،لیکن پاکستان کیلئے یہ موقع ہے کہ وہ کشمیرکوبین الاقوامی ایجنڈے پرلانے کیلئے سفارتی محاذکھولے۔سندھ طاس معاہدے کودوبارہ کھولنے کی بجائے،پاکستان کوبھارت کی خلاف ورزیوں کواجاگرکرناچاہیے۔کشمیرپر اقوام متحدہ کی قراردادوں کوبنیادبناکر،پاکستان کوترکی،چین،اوردیگردوست ممالک کی حمائت سے ایک مربوط مہم چلائے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیرکے عوامی حقوق کوکبھی پیچھے نہ رکھے،کیونکہ یہی اس کاسب سے مضبوط اخلاقی اورقانونی مؤقف ہے۔
پاکستان کواس بارمحتاط مگرجرأتمندانہ اندازمیں مذاکرات کی میزپرآناہوگا، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کمزورمؤقف کے ساتھ مذاکرات،کمزورفیصلے جنم دیتے ہیں۔پاکستان کواپنا مؤقف مضبوط قانونی دلائل، عوامی حمایت،میڈیاکی طاقت اوراسلامی ممالک کے اتحادکے ذریعے پوری دنیامیں اجاگر کرنا ہوگا۔اگران سفارشات پرمکمل عملدرآمد کیاگیاتوجس طرح رب العزت نے آپریشن بنیان المرصوص میں کامیابی اورفتح نصیب فرمائی ہے،اسی طرح ان کامیابیوں کاسلسلہ اور درازہوتاچلاجائے گا،ان شااللہ۔