امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیکس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔
انہوں نے مناظرہ لاہور کے منصورہ میں ایک پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام ایک لیٹر پیٹرول پر سوا سو روپے کا ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جو کہ بہت بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت جنگ بندی کی صورتحال پر غور کر رہی تھی کہ وزیراعظم پرانی قیمت پر پیٹرول لائیں گے، لیکن پھر بارہ روپے فی لیٹر کمی کی گئی، جو ان کے مطابق افسوسناک ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت کو ڈھائی سو روپے فی لیٹر تک لایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور معاشی سرگرمیاں فروغ پا سکیں۔ حافظ نعیم الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر لیوی ٹیکس ختم ہو جائے تو ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی، جس کا مجموعی طور پر فائدہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حکومتی سطح پر ارب پتی افراد ٹیکس بچا رہے ہیں جبکہ غریب اور متوسط طبقہ کو ٹیکس دینا پڑ رہا ہے، اس لیے یہ ٹیکس ختم ہونا چاہئے۔
مزید برآں، حافظ نعیم الرحمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مذاکرات کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات خوش آئند ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ کامیاب ہوں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان نے اچھا کردار ادا کیا ہے اور مزید بھی کرسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب تھے، مگر امریکی نائب صدر کے فون آنے کے بعد بات آگے نہ بڑھ سکی، کیونکہ امریکا کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے معاہدہ التوا کا شکار ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے اس صورتحال کو شیطان کی پوجا کرنے والوں کا عمل قرار دیا اور کہا کہ امریکا کو یرغمال بنایا جا رہا ہے۔