سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
استغاثہ کے مطابق،مئی2023میں انڈین حکومت کے ملازم وکاش یادونے گپتاکوگرپتونت سنگھ پنوں کوقتل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔دہلی میں ملاقات کے ذریعے قتل کی ممکنہ منصوبہ بندی کی گئی۔یادوکابینہ سیکریٹریٹ میں کام کرتے تھے،جہاں انڈین خفیہ ایجنسی’’را‘‘کادفتربھی موجودہے۔یہ منظرسیاسی سازشوں کی کالی جالی کی مانندہے۔یادوشی حکم پر گپتا نے امریکی خفیہ افسرسے رابطہ کیا،جوخودکوقاتل ظاہرکر رہاتھا۔اس نے قاتل کاکرداراداکرکے گپتاکو پنوں کی معلومات فراہم کیں،جن میں گھراورفون نمبرشامل تھے۔یہ ایک تمثیل ہے کہ جہاں دھوکہ اورمکاری چھپی ہو،وہاں انصاف کی آنکھ ہمیشہ جاگتی ہے۔مبینہ طورپرگپتانے نجرکے قتل کے بعدمزیداہداف کی فہرست’’اجرتی قاتل‘‘کودی۔ کینیڈانے ان الزامات کی روشنی میں انڈیاپرتنقیدکی،مگر بھارت نے ان کی سختی سے تردیدکی۔یہ واقعہ عالمی سیاست کے پیچ وخم میں اخلاقی امتحان کی ایک دلیل ہے۔
پنوں نے1990ی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی، ندی گڑھ سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ الب علمی کے دنوں سے ہی وہ سیاست کے رنگ میں رنگے ہوئے، ور مریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سکھس فارجسٹس کی بنیادرکھی۔ ہ عوامی طورپرخالصتان کے قیام کی اپیل کرتے رہے،جوایک تاریخی جدوجہدکی داستان ہے۔
6مئی2024کوکینیڈاکی پولیس نے تین انڈین شہریوں کوگرفتارکیا،جونجرکے قتل میں ملوث تھے۔نجروینکوورکے گرونانک سکھ گرودوارے کے صدرتھیاور18جون2023کوقتل ہوئے۔گرفتارافرادکرن برار،کرن پریت سنگھ،اورکمل پریت سنگھ ہیں،جو مغربی پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ سازش سے پتہ چلتاہے کہ سازش صرف کسی ایک فردتک محدودنہیں،بلکہ یہ ایک جالی دارمنصوبہ ہے۔
14ستمبر2023کوخالصتانی رہنماں کے پراسرارقتل اورتجارتی معاہدے پرجھٹکے کے باعث کینیڈااورانڈیا کے کشیدہ تعلقات عروج پرپہنچ گئے۔وزیراعظم جسٹن ٹروڈونے انڈین حکومت کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کاالزام لگایا،جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔یہ ایک ایسالمحہ تھاجہاں سیاست اوراخلاقیات کاٹکراعیاں ہوا۔
جی20اجلاس میں شریک کینیڈاکے وزیراعظم ٹروڈودودن تک انڈیامیں پھنسے رہے،اورکینیڈا نے تجارتی بات چیت معطل کردی۔کینیڈاکی وزیر تجارت میری این کے ترجمان نے تصدیق کی کہ دوطرفہ تجارتی مذاکرات روک دیے گئے ہیں۔یہ ایک سبق ہے کہ عالمی سیاست میں بھی ہر کارروائی کے اثرات کی گہرائی کوپہچاننا ضروری ہے۔مودی اور روڈو ے درمیان گرما رم بات چیت ہوئی، س میں سکھ علیحدگی پسند تحریک اور فارتی مسائل زیر بحث آئے۔جی20اجلاس میں کشیدہ ملاقات کے دوران مودی اورٹروڈو کے درمیان گرما گرم بحث میں سکھ علیحدگی پسندتحریک اورسفارتی مسائل زیربحث آئے۔یہ منظرسیاسی ڈرامے کی مانندہے،جس میں ہرلفظ کاوزن ہے۔مودی حکومت سکھ علیحدگی پسندوں کی بین الاقوامی مقبولیت اورانڈین سفارتکاروں کے خلاف تشددسے ناخوش تھی۔یہ ایک تاریخی منظرہے جہاں طاقت اور مزاحمت کی کشمکش عیاں ہوتی ہے۔
ٹروڈونے کہاکہ انڈیا کی کارروائیاں کینیڈاکی ملکی سیاست میں مداخلت کے مترادف ہیں۔یہ ایک عبرت آموزواقعہ ہے کہ یہ تمام واقعات عالمی سیاست میں طاقت،اثرورسوخ ، اور اقلیتوں کے حقوق کے تناظرمیں ایک نیااورمتنازع باب کھولتے ہیں۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ دنیاکی سیاست بھی ایک شطرنج کی طرح ہے،جس میں ہرچال کی قدر دانی ضروری ہے۔یہ ایک ایسی کہانی ہے جوسچائی اوراخلاقیات کی روشنی میں پڑھی جاتی ہے۔یہ سلسلہ اس بات کاروشن ثبوت ہے کہ سیاسی،مذہبی،اورسفارتی طاقتیں انسانی حق و انصاف کے آئینے میں کس طرح جھلکتی ہیں۔ہرواقعہ ہمیں یاددلاتاہے کہ آزادی، قانون،اور انصاف کی روشنی میں حقیقت کوچھپایانہیں جاسکتا،اورعالمی ضمیرہمیشہ بیداررہتاہے۔
یہ خون آلودصفحات،یہ مجرمانہ سازشیں،اوریہ تاریخی مظالم ہمیں یاددلاتے ہیں کہ طاقت،سیاست اورمذہب کاکھیل انسانی زندگی کے حقوق اور وقارکوکبھی ختم نہیں کرسکتا۔ان تمام مظالم کی روشنی میں یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ بھارت کی طاقتورحکومتیں جمہوریت کے نام پرنہ صرف اقلیتوں کے بنیادی حقوق کودباتی ہیں،بلکہ عالمی سطح پربھی خوف ودھمکی کے سائے ڈالتی ہیں۔1984کے گولڈن ٹیمپل حملے میں شہید ہونے والے دولاکھ سکھوں کی قربانی اورچھتی سنگھ پورہ میں بے رحمانہ قتل عام یہ ثابت کرتاہے کہ ریاستی طاقت کس طرح
مذہبی اور نسلی منافرت کے آڑمیں انسانی وقارکوپامال کرسکتی ہے۔گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی،اورچھتی سنگھ پورہ کاخون تاریخ کے صفحات پرہمیشہ زندہ رہیں گے،تاکہ نسل درنسل یاد دلایا جاسکے کہ ظلم کی انتہاکہاں تک جاسکتی ہے۔
یہ سانحات نہ صرف سکھ برادری کیلئے ایک تاریخی زخم ہیں،بلکہ عالم انسانیت کیلئے ایک عبرت ہیں۔ان مظالم کی حقیقت کوچھپانا،تاریخ کی روشنی کومسخ کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈین خفیہ ایجنسی راکی منصوبہ بندی اورریاستی سازشیں اقلیتوں کی آزادی اور انسانی حقوق کیلئے ایک مسلسل خطرہ رہی ہیں۔یہ سازشیں،چاہے وہ امریکی زمین پر قتل کی منصوبہ بندی ہویاکشمیری آزادی کی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش،ایک واضح مثال ہیں کہ طاقت کے غلط استعمال کاانجام صرف ظلم اورخون ریزی کے سواکچھ نہیں ہوتا۔
اقوام عالم کویہ یادرکھناچاہیے کہ بھارت کے اس تعصب اورمکاری کے سائے میں جمہوریت کے مینارجھک گئے ہیں۔یہ وہ لمحے ہیں جب انسانی ضمیربیدارہوناچاہیے،تاکہ آئندہ نسلوں کوایسے مظالم سے محفوظ رکھاجاسکے۔تاریخ کی عدالت میں یہ تمام واقعات ہمیشہ ریکارڈرہیں گے،اورسچائی کے علمبردارکبھی خاموش نہیں رہیں گے۔دولاکھ سکھوں کی قربانی، ہزاروں معصوم جانوں کاخون،اورعالمی دباؤکے باوجود دبائی جانے والی رپورٹیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ظلم کی جڑیں گہری ہوسکتی ہیں،لیکن حقیقت کبھی چھپ نہیں سکتی۔
یہ سانحات،یہ خون آلودصفحات،اوریہ مجرمانہ سازشیں ایک سبق ہیں:طاقت،سیاست اورمذہب کاکھیل انسانی زندگی کے حقوق اوروقارکوکبھی نہیں مٹاسکتا،اورعدل وانصاف کی کرن ہمیشہ ظلم کے سائے میں روشنی ڈالتی رہے گی۔اقوام عالم کویادرکھناچاہیے کہ بھارت کی مکاری اور متعصب ہندوتواکی حکمرانی کے سائے میں جمہوریت محض ایک فریب ہے۔مگرحقیقت ہمیشہ سامنے آتی ہے،اور انصاف کی کرن ظلم کی تاریکی میں بھی روشنی ڈالتی ہے۔یہی سبق ہے جوانسانی ضمیر،تاریخ،اورآئندہ نسلوں کیلئے ضروری ہے۔