جمہوریت کے سائے میں خون

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے اوراق کبھی کبھارایسے خون آلودواقعات کے ساتھ رقم ہوتے ہیں،جوانسانی شعورکوجھنجھوڑدیتے ہیں اورانصاف کے پرانے پیمانوں پرسوالیہ نشان لگاتے ہیں۔بھارت کی موجودہ سیاست کی تلخ حقیقتیں ان مظالم کاآئینہ ہیں،جن کاسنگین اثرنہ صرف سکھ برادری بلکہ عالمی ضمیرپربھی پڑا۔1984کاسانحہ سکھ قوم کے دلوں میں آج بھی ایک دردناک زخم ہے،جوکسی لمحے بھی بھلایانہیں جاسکتا۔اس سانحے میں دو لاکھ سے زائدسکھوں کومحض اس لیے شہیدکردیاگیاکہ وہ اپنے آئینی حقوق کیلئے آوازبلندکررہے تھے۔
گولڈن ٹیمپل،جونہ صرف سکھ قوم کی روحانی روشنی بلکہ انسانیت کے پرامن پیغام کامرکزہے،اس مقدس مقام پربمباری کی گئی۔یہ ایک ایسا عمل تھاجس نے مذہب،اخلاق،اور انسانی وقارکے سب سے بنیادی اصولوں کوپامال کردیا۔ہزاروں سکھ مرد،عورتیں،اوربچے موت کے گھاٹ اتاردیے گئے۔اس مظالم کی تاریخ میں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلویہ تھاکہ اس آپریشن کیلئے ایک سکھ جنرل کاانتخاب کیاگیا،تاکہ قوم کے اپنے ہی زخموں میں نمک چھڑکنے کاعذاب محسوس ہو۔لیکن بھارت کایہ ظلم وستم صرف اسی سانحے تک محدودنہ رہا ۔اس نے اپنی مکاری اورسازش کی عادت کے تحت کشمیری آزادی کی تحریک کوبھی بدنام کرنے کی کوشش کی۔امریکی صدربل کلنٹن کے دورے کے موقع پرجموں کے گوردوارہ چھتی سنگھ پورہ میں سکھوں کوبے رحمی سے گولیوں کانشانہ بنایاگیااوریہ سانحہ کشمیری مجاہدوں پرڈال دیاگیا۔یہ ایک ایسابدترین انسانیت سوزاورمکروہ ظالمانہ کھیل تھاجو ریاستی طاقت، سازش اوربین الاقوامی سیاست کے خطرناک امتزاج کی عکاسی کرتاہے۔
عالمی دباکے نتیجے میں بھارت نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی،جسٹِس(ریٹائرڈ)اجیت سنگھ بینزپنجاب ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین،جو انسانی حقوق کے تجربہ کار مقرر تھے۔سرداراندرجیت سنگھ جائیجے موومنٹ اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن کے کنوینر،جوریاستی ظلم و ستم کے خلاف سرگرم رہنماتھے۔لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ)کرتارسنگھ گل جو موومنٹ اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن اورپنجاب ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (پنجاب تنظیمِ حقوقِ انسانی)کے مشیر،جن کے پاس عسکری اورحقوقِ انسانی دونوں میدانوں کاتجربہ تھا۔یہ کمیٹی واقعے کی تحقیق کے بعد واضح طورپرانڈین خفیہ ایجنسی’’را‘‘کوذمہ دارقراردے چکی ہے،مگربھارت نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس رپورٹ کودبایاجائے مگرظلم کا سایہ اتناگہرانہیں ہوتاکہ وہ چھپ سکے،اوریہ رپورٹ عالمی سطح پرمنظرِعام پرآگئی۔
یہ تمام واقعات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ متعصب ہندوتواحکومت کس حدتک جمہوریت کی آڑمیں اپنے سیاسی مقاصد کیلئے انسانیت کوپامال کر سکتی ہے۔دولاکھ سکھوں کی قربانی، گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی،چھتی سنگھ پورہ کاخون اوربعدکی بین الاقوامی سازشیں ایک واضح مثال ہیں کہ طاقت،مذہب اورسیاست کے کھیل میں انسانی زندگی کس قدربے بس ہو سکتی ہے۔یہ تاریخی فریب اورمجرمانہ سازشیں عالمی ضمیر کیلئیایک انتباہ ہیں کہ انصاف اورانسانی حق کی حفاظت کے بغیرآزادی محض ایک فریب ہے۔
یادرہے کہ دنیاکی سیاست ایک سائے داردرخت کی مانندہے،جس کی شاخوں میں طاقت،سازش اورخفیہ منصوبے پنپتے اورجکڑے ہوتے ہیں ۔دنیاکی سیاست ایک بے رحمانہ میدان اورایک سنہری کتاب کی مانندبھی ہے،جس کے صفحات پرخون اورانصاف کے درمیان جدوجہدلکھی جاتی ہے۔جہاں طاقت اوراثرورسوخ کے کھیل اکثرپردے میں چھپے رہتے ہیں۔دنیاکی اس سیاسی بزم میں،جہاں طاقت اورسیاست کے کھیل اکثر رازکی چادرمیں لپٹے ہوتے ہیں،ایک ایساواقعہ ہواجس نے عالمی ضمیرکوجھنجھوڑدیا۔ 
نیو یارک کی عدالت میں پیش ہوئے54سالہ نکھل گپتانے وہ رازفاش اوراس درخت کی سب سے اندھیری شاخ کوبے نقاب کیاجوپردوں میں چھپا تھا:گپتانے یہ انکشاف کیا کہ انڈیاکی مودی حکومت نے امریکی سرزمین پرباقاعدہ خفیہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کی گھنانی سازش تیارکی تھی اورذرائع مہیاکرکے قتل کااہتمام کیاتھا۔یہ انکشاف ایک ایسی پردہ داری کوبے نقاب کرتاہے جس میں انسانیت کے بنیادی اصول دبی ہوئے ہیں،اورطاقت کی سیاہ موجیں انصاف کی روشنی پرچھاجاتی ہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جوانسانی ضمیر کوجھنجھوڑدیتی ہے۔یہ سازش جیسے انسانی ضمیرکی آزمائش کاایک آئینہ پیش کرتی ہے،اوریہ بتاتی ہے کہ طاقت کبھی کبھارانصاف کی روشنی پرسایہ ڈال دیتی ہے۔
نکھل گپتانے تین سنگین جرائم تسلیم کیے:قتل کیلئے مالی امدادلینا،اجرت کے عوض قتل،اورمنی لانڈرنگ کی سازش۔ممکنہ سزا40سال تک کی قیدہے۔اس سازش کاہدف امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں تھے،جوخالصتان تحریک کے پرجوش حامی ہیں۔ایک تحریک جوسکھ قوم کیلئے علیحدہ وطن کاخواب سجائے ہوئے ہے۔یہ تحریک سکھ قوم کیلئے علیحدہ وطن کے خواب کاامین ہے،یہ تحریک سکھ قوم کیلئے علیحدہ وطن کے خواب کی تجلی ہے جس کے رنگ بیرون ملک بھی جھلکتے ہیں جسے اندرون اوربیرون ملک کے لاکھوں حامی بھی دلوں کی گہرائیوں سے سپورٹ کرتے ہیں۔
امریکی وکیل جے کلیٹن نے عدالت میں کہانکھل گپتانے امریکی سرزمین پرایک شہری کوقتل کرنے کی سازش کی،صرف اس لیے کہ وہ اپنے اظہاررائے کے جائزحق کواستعمال کر رہے تھے۔یہ بیان اس بات کی گواہی ہے کہ ایک آزادملک میں بھی طاقتوربیرونی قوتیں انسانیت کے بنیادی حقوق کودباسکتی ہیں۔یہ الفاظ اس حقیقت کی آئینہ دارہیں کہ آزاد ملک بھی بعض اوقات طاقتوربیرونی قوتوں کی چھاں میں انسانی حقوق کے معیارسے محروم ہوجاتے ہیں۔یہ الفاظ اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آزاد ممالک میں بھی طاقتور قوتیں انسانی حقوق کی دھوپ میں سائے ڈال سکتی ہیں۔
یہ جملہ ہمیں یاددلاتاہے کہ آزادی کاروشن چراغ کبھی کبھی طاقت کے سائے میں مدھم پڑسکتاہے،مگر انصاف کی روشنی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ یہ الفاظ اس بات کابھی ثبوت ہیں کہ آزادی اورانصاف کی روشنی اورحقیقت کی کرن ہمیشہ روشن رہتی ہے۔گپتاایک خودساختہ تحفظ کے شکنجے میں تھااورخودکوایک محفوظ خلامیں سمجھ رہاتھا،اس نے سوچاکہ انجام تک پہنچنے والاعمل اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گااور اس سازش سے کچھ نہ بگڑے گاکہ اس کی پشت پرمودی جیساظالم وسفاک آدمی کھڑاہے۔لیکن قانون کی روشنی نے اس فریب کی پردہ داری کوفاش کرتے ہوئے اسے اس کے اعمال کے آئینے اورانصاف کے دروازے پرکھڑاکردیاجیسے اندھیری راہ میں چراغ جل جائے۔ 
عالمی ذرائع ابلاغ نے گپتاکے اعتراف کوعدالتی تصدیق کی سندقراردیا،جوثابت کرتی ہے کہ مودی حکومت نے امریکی زمین پرقتل کیلئے منصوبہ بندی کی سازش کی تھی۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جوعالمی سیاست کے پیچ وخم کوآشکارکرتی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کے اوراق پرسچائی کے حروف لکھ دیے گئے۔بھارت نے پنوں کودہشتگردقراردے رکھاہے ، لیکن وہ خوداپنے آپ کومحض کارکن کہتے ہیں۔سکھ برادری بھارت کی مجموعی آبادی کادو فیصد ہیں،مگرکچھ حلقے ان کیلئے علیحدہ وطن کی آرزو اورخواب سجائے ہوئے ہیں۔بیرون ملک مقیم حامی خالصتان کیلئے آوازبلند کرتے ہیں،جو ایک قومی فطرت کی عکاسی او تجلی ہے جوصبرواستقامت کی علامت ہے۔(جاری ہے)