سفاکی کے سائے میں

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
مدھیہ پردیش کے ان تینوں واقعات نے آئینِ ہندکی روح پرکاری ضرب لگائی ہے۔آئین کی دفعات15،17اور46 واضح طورپرذات،مذہب،اورنسلی امتیازکی نفی کرتی ہیں ؛ مگرعملاًمعاشرہ اب بھی’’ منوسمرتی ‘‘کے سائے میں سانس لے رہاہے۔دفعہ17میںان ٹچ ایبلٹی(چھوت چھات)کوجرم قراردیاگیامگرحقیقت یہ ہے کہ یہ جرم آج بھی گلیوں میں زندہ اورقانونی کتابوں میں دفن ہے۔انسدادِمظالم برذاتوں کاقانون1989،محض لفظوں کی زینت بن چکا ہے جہاں مظلوم کی دہائی کویاتوگاؤں کے جھگڑے کارنگ دے دیاجاتاہے،یاخود متاثرہ فریق کوملزم بنادیاجاتاہے۔
وکیل اورسماجی کارکنان کے مطابقاحتساب کی عدم موجودگی ہی اصل مسئلہ ہے۔جب ظلم کے خلاف آوازاٹھانے والاخودخطرے میں پڑجائے،توخاموشی معاشرتی مجبوری بن جاتی ہے۔انصاف کی دیواروں پرخاموشی کے جالے اورمصلحتوں کاجبرطاری ہے۔وکیل اورانسانی حقوق کے علمبردارچیخ چیخ کرکہتے ہیں کہ ان جرائم کی جڑاحتساب کی کمی میں ہے۔ اکثر مقدمات کو’’آپسی جھگڑا‘‘کہہ کررفع دفع کردیاجاتاہے،یاالٹامتاثرین پرہی مقدمے درج ہوجاتے ہیں۔ایک سوشل ورکرکابیان ہے کہ قوانین توہیں،مگرانصاف تک رسائی ایک خواب بن چکی ہے۔جب انصاف کے دروازے پراقتدارکے نگہبان کھڑے ہوں،تومظلوم کی صدافصیلوں سے سرٹکراکرزخموں سے چور ناکامی کادھبہ لئے واپس آجاتی ہے ۔ذات پات کانظام،جسے ہندودھرم کے قدیم متون میںورن آشرمکہاگیا،دراصل انسانی معاشرت کومنظم کرنے کاایک ابتدائی فریم ورک تھالیکن رفتہ رفتہ یہ مذہبی تقدیس کے پردے میں طبقاتی استبدادمیں بدل گیا۔منوسمرتی نے اس تقسیم کومذہبی جوازعطاکیا،برہمن کو علم کا،ویش کوتجارت کا،اورشودرکوخدمت کاحق ملا،جبکہ دلت کوصرف خاموشی اورغلامی اوردیگرمذاہب یعنی اسلام اورعیسائیت کے ماننے والوں کوتواس سے بھی کہیں زیادہ نفرت کاشکاربنایاجاتاہے جس کی درجوں مثالیں موجود ہیں۔
تاہم تاریخ اس جبرکے خلاف مسلسل آوازوں کی گواہ بھی ہے۔بدھ مت نیکرونا(رحم)اوراہِمسا(عدم تشدد)کے ذریعے اس نظام کے خلاف روحانی بغاوت کی۔بھکتی تحریک اورسنت کبیرنے ذات کی بیڑیاں توڑنے کاپیغام دیا۔
کبیرکی صداآج بھی گونجتی ہے’’جات نہ پوچھوسادھوکی،پوچھ لیجو گیان‘‘۔
اسلام نے بھی مساوات کاتصوردیتے ہوئے اعلان کیا:یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والاوہ ہے جوسب سے زیادہ پرہیزگارہے۔(الحجرات:13)
یہ آفاقی اصول آج کے ہندوستان کیلئے بھی آئینِ عدل کی بنیادبن سکتے ہیں،اگردل ودماغ تعصب کے غلاف سے آزادہوں لیکن صد افسوس کہ آر ایس ایس جیسامتعصب گروہ جوامسال اپنے سوسال مکمل کرنے جارہاہے،اس کادعوی ہے کہ100سال گزرنے تک یہ ساراخطہ اکھنڈبھارت اوریہاں صرف ہندوبرہمن راج کرے گااورباقی رہنے والے ان برہمنوں کی غلامی کیلئے رہ جائیں گے۔
1949میں منظورہونے والے آئینِ ہندنے دلتوں کومساوی شہری قراردیااورذات پرمبنی امتیازکوممنوع ٹھہرایا۔ دفعہ15میں مذہب،نسل، ذات یاجنس کی بنیادپرامتیازممنوع قرار دیاگیا ہے جبکہ دفعہ17میں چھوت چھات کوجرم قراردیاگیااوردفعہ46میں ریاست پرلازم ہے کہ دلتوں اورپسماندہ طبقات کی تعلیمی ومعاشی ترقی کویقینی بنائے۔1989میں شیڈول کاسٹ اورشیڈول قبائل نافذکیاگیاتاکہ ایسے تمام مظالم کاقانونی سدباب کیاجاسکے مگرعملًایہ قانون اکثرطاقتورطبقات کے اثرمیں کمزورپڑجاتاہے۔
انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق جب نظامِ عدل کے دروازے پرطاقت کے محافظ کھڑے ہوں،توانصاف کاداخلہ ممکن نہیں رہتا۔ عدلیہ کے متعددفیصلے خصوصا سٹیٹ آف کرناٹکابمقابلہ اپابالوانگیل(1995)اس حقیقت کوتسلیم کرتے ہیں کہ اس ذات پات کے جرائم محض سماجی نہیں بلکہ آئینی بغاوت ہیں،تاہم قانون کی موجودگی کے باوجود، انصاف کی عدم دستیابی ایک مسلسل المیہ ہے۔
فکری وتہذیبی زاویہ کابغورجائزہ لیاجائے توانسان کی حرمت،عدل اورایمان ہی معاشرہ کی خوبصورت اقدارکی ضامن ہوتی ہیں اور انسان کی حرمت اورسماجی عدل کے علمبردار معاشرے ہی زندہ رہتے ہیں۔اسلام نے غلامی کے ہردروازے پرعدل کی دستک دی،اور انسان کوانسان ہونے کی بنیادپرشرف عطاکیاہے۔زبان صرف اظہارکاذریعہ نہیں، تہذیب کی امانت ہیاورجب زبان میں عدل و انسانیت کابیان مفقودہوجائے تومعاشرہ اپنی تہذیب کھودیتاہے اورعدل صرف قانونی نہیں بلکہ فکری اوراخلاقی فریضہ ہے اورجوقوم ظلم برداشت کرتی ہے،وہ دراصل ظلم کودوام بخشتی ہے۔مدھیہ پردیش کے واقعات میں یہی فکری سبق چھپاہے جب مظلوم خوف سے خاموش رہتاہے،توظالم کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں۔یہ خاموشی بھی جرم ہے۔
مدھیہ پردیش کے تینوں واقعات نے ثابت کیاکہ انصاف کامسئلہ محض قانونی نہیں بلکہ سماجی مرض ہے۔ظلم کی جڑاحتساب کی کمی کی بناپرمعاشرہ کوتباہ وبربادکردیتی ہے جس پرآج کی مودی سرکارہندواقتدارکے نشے میں بگٹٹ بھاگ رہی ہے۔مدھیہ پردیش کے یہ واقعات محض پولیس کی نااہلی یاچندافرادکی سفاکی نہیںیہ ایک ایسے معاشرتی زہرکی علامت ہیں جونسلوں سے رگ وپے میں اتر چکاہے۔پولیس کارروائی اکثرمتاثرین کے خلاف بھی درج ہوجاتی ہے۔ملزمان کوسیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اورمعاشرہ،جوکبھی بیدارضمیر تھا ،اب تماشائی بن چکاہے۔سوشل ورکرزکے مطابق،جب انصاف ایک طبقے کیلئے نایاب اوردوسرے کیلئے یقینی ہوجائے، تووہ سماج خوداپنادشمن بن جاتاہے،یہی موجودہ ہندوستان کاالمیہ ہے جہاں دلت کادرداب بھی انصاف کے کٹہرے تک نہیں پہنچ پاتا۔
یہ مقالہ صرف چندواقعات کی رپورٹ نہیں،بلکہ پورے ہندوستانی ضمیرکامحاسبہ ہے۔گیان سنگھ کے آنسو،راجکمارکی چیخ،اورداموہ کے دلت کی خاموشی ،یہ سب اس قوم کیلئے آئینہ ہیں۔ذات پات کانظام دراصل انسانیت کے چہرے پروہ دھبہ ہے جوصرف قانون سے نہیں،بلکہ ضمیرکی بیداری سے مٹ سکتاہے
یہ سوال صرف مودی کی سفاک حکومت سے نہیں جوآرایس ایس کاخوفناک خواب پوراکرنے کیلئے راج کررہی ہے بلکہ یہ اقوام عالم سے ہے اوربالخصوص مغربی ممالک اورامریکا کے ان تمام اداروں سے بھی ہے جوانسانی حقوق کے چیمپئن بننے کادعوی کرتے ہیں کہ کیاذات اورمذہب کی بنیادپرانسان کی حرمت پامال کی جاسکتی ہے؟اگرہم نے ان آنسوؤں میں انسانیت کاعکس نہ پہچانا،توآنے والی نسلیں ہم سب پرلعنت بھیجیں گی۔یہ وقت ہے کہ قانون کاقلم طاقت کے سائے سے آزادہو،اورعدل کاترازورنگ،نسل یاذات نہیں بلکہ انسانیت کے پیمانے پرتولاجائے۔
مدھیہ پردیش کے واقعات نے ہمیں پھریاددلایاہے کہ عدل جب خوف کے تابع ہو،توظلم حکومت کرتاہے۔یہ وقت ہے کہ ہم سماج کے اس زہرکوایمان، تعلیم،اورقانون کے عزم سے صاف کریں۔یادرکھیں جب قومیں عدل کھو دیتی ہیں توان کے معبدومندرباقی رہ جاتے ہیں، مگرروح فناہوجاتی ہے۔اگرآج بھی انسانی حقوق کانعرہ لگانے والے ممالک نے اعدل وانسانیت کی اس روح کوزندہ نہ کیا،اورعالمی پلیٹ فارمزپرمودی سرکارکوکھلی چھٹی دے دی توتاریخ ایک بارپھرہمیں ظالموں کے زمرے میں شمارکرے گی۔میڈیاکی بھی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کومحض خبری شہ سرخی نہیں بلکہ سماجی مکالمے کاموضوع بنایاجائے۔یہ مقالہ نہ صرف ایک سماجی تحقیق ہے بلکہ ایک اخلاقی دعوت بھی کہ انسان،چاہے کسی بھی ذات،مذہب یانسل سے ہو،اس کی حرمت،اس کاوقار،اوراس کاحقِ عدل ایک آفاقی امانت ہے۔