فرعونیت کے سائے میں عوام

کاشف بٹ
پولیس… ایک ایسا محکمہ جو عوام کے جان و مال کا محافظ ہونا چاہیے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے دروازے پر انصاف اور تحفظ کی امید جاگنی چاہیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں پولیس کا نام سنتے ہی دلوں میں خوف اور ذہنوں میں ذلت کا تصور ابھرتا ہے۔
کل میرا تھانہ چوہنگ جانے کا اتفاق ہوا۔ اندر داخل ہوا تو پہلا منظر ہی خون کھولانے کے لیے کافی تھا۔ اے ایس آئی سمی اللہ دو نوجوان لڑکوں کو دھکے اور تھپڑ مارتا ہوا اندر گھسیٹ رہا تھا۔ جرم؟ صرف اتنا کہ ان کے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور چونکہ لڑکی کا باپ پولیس والا تھا، لہٰذا انتقام کے نشے میں یہ بے قصور پکڑ لیے گئے۔ کمال یہ کہ تھوڑی دیر بعد یہی افسر فون پر ایس ایچ او کو رپورٹ دے رہا تھا: "سر! ان لڑکوں نے مجھ پر حملہ کیا ہے۔" یعنی ظالم بھی وہ اور مظلوم بھی وہی۔
ابھی یہ تماشہ چل ہی رہا تھا کہ ایک اور تماشا برپا ہوگیا۔ ایک شخص ڈھائی تین سال کا بچہ گود میں لیے تھانے میں داخل ہوا۔ بتایا کہ یہ بچہ اسے سڑک پر ملا ہے اس کے ماں باپ کو تلاش کر کے ان کے لخت جگر کو ان کے حوالے کر دیں ۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پولیس اس شہری کی تعریف کرتی، مگر یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ محرر عابد نے اس پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی، جیسے وہ کوئی اغوا کار ہو۔ اسے کہا گیا: "سائیڈ پر بیٹھ جاو?۔" اور پھر چند لمحوں بعد اس نیک نیت شہری کو ہی "اغوا کار" بنا کر پیش کر دیا گیا تاکہ افسران کو کارکردگی دکھائی جا سکے۔
یہ مناظر صرف ایک تھانے کے نہیں، پورے پولیس کلچر کی جھلک ہیں۔ طاقتور مجرم کے ساتھ "صاحب" اور "میاں" لگا کر گفتگو، اور عام آدمی کے حصے میں تھپڑ، گالیاں اور تذلیل۔ تھانہ اب انصاف کا نہیں بلکہ ذلت اور خوف کا اڈہ بن چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ پولیس کو یہ بادشاہت کس نے دی؟ عوام ٹیکس دیتے ہیں، انہی کے پیسوں سے پولیس کی تنخواہیں اور مراعات چلتی ہیں، پھر انہی عوام کو رعایا بنا کر کیوں رکھا جاتا ہے؟
اگر پولیس کو واقعی خدمتِ خلق کا ادارہ بنانا ہے تو سب سے پہلے اس کے رویے کو بدلنا ہوگا۔ اختیارات کے غلط استعمال کو لگام ڈالنا ہوگی۔ اور ان اہلکاروں کو کڑی سزائیں دینا ہوں گی جو فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ورنہ عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے مزید بڑھتے جائیں گے، اور قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن بنے رہیں گے۔

ورنہ یاد رکھا جائے، جب انصاف دینے والے ہی ظلم کرنے لگیں تو معاشرے کا توازن بکھر جاتا ہے، اور پھر کسی قانون، کسی نظام، اور کسی ادارے پر عوام کا اعتماد باقی نہیں رہتا