رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کی عبادت کا ایک منفرد منظر پیش آیا جب مسجد الحرام میں 34 لاکھ سے زائد عمرہ زائرین اور نمازیوں نے اپنی عبادات اور دعاؤں کا اہتمام کیا۔
حرمین شریفین انتظامیہ کے مطابق، اس دن مسجد الحرام اور اس کے ملحقہ علاقوں میں 34 لاکھ 41 ہزار چھ سو سے زائد افراد موجود تھے۔ستائیسویں شب کو مسلمان دنیا بھر میں شب قدر کے طور پر مناتے ہیں، جو رمضان کے سب سے بابرکت لمحات میں سے ایک ہوتی ہے۔ اس دن عبادت کا خاصہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے حضور اپنی بخشش، گناہوں کی معافی، اور اپنی دلی دعاؤں کے لیے التجا کرتے ہیں۔ اس موقع پر زائرین نے مسجد الحرام کے وسیع احاطے میں نماز، قرآن کی تلاوت، ذکر، اور دعاؤں میں مصروف رہے، اور اپنے دلوں میں اللہ کے قریب ہونے کی خواہش محسوس کی۔
اس دن کی عبادت کا خصوصی پہلو یہ تھا کہ زائرین نے اپنی دعاؤں میں فقط اپنی مغفرت کی طلب نہیں کی بلکہ دنیا و آخرت کی کامیابی، امن و سکون، اور امت مسلمہ کے لیے بھی دعائیں کیں۔ حرمین شریفین کی انتظامیہ نے اس موقع پر نماز اور عبادت کے ماحول کو بہترین بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے تاکہ زائرین آسانی سے عبادت کر سکیں۔مسجد الحرام کی ستائیسویں شب کی عبادات میں شرکت کرنے والے زائرین نے اس رات کو انتہائی بابرکت اور اہمیت کا حامل قرار دیا، کیونکہ یہ رات قرآن مجید کی نازل ہونے والی رات بھی ہے، اور مسلمان اس رات میں اللہ کے رحم و کرم سے امید رکھتے ہیں۔