امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فلسطین کے حامی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کی ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مزید اسٹوڈنٹ ویزا منسوخ کر سکتا ہے۔
یہ بیان کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محمود خلیل کی گرفتاری اور نظربندی کے بعد آیا ہے، جس کے بارے میں امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطین نواز سرگرمیوں کی وجہ سے ملک بدر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔روبیا نے G7 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مزید ویزے منسوخ کیے جانے کی توقع ہے کیونکہ امریکی حکام فلسطین کے حامی افراد کو نشاندہی کر رہے ہیں جو امریکہ میں داخلے کے لائق نہیں ہیں۔محمود خلیل کے کیس کے بارے میں مزید یہ کہا گیا کہ عدالت نے ان کی ملک بدری روک دی تھی، حالانکہ امیگریشن پولیس نے انہیں ڈی پورٹیشن کے لیے نیوجرسی سے لوزیانا منتقل کر دیا تھا۔
محمود خلیل کے کیس کی سماعت کرنے والے جج جیسی فرمین نے ان کی ملک بدری کے خلاف فیصلہ دیا تھا، اور ان کے وکلا نے شکایت کی تھی کہ ان سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی اور سماعت کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ان کا بیان نہیں سنا جا رہا تھا۔عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہفتے میں دو دن محمود خلیل کو اپنے وکلا سے ملاقات کا موقع فراہم کریں۔ اس دوران عدالت کے باہر سیکڑوں مظاہرین اور ٹرمپ کے حمایتی افراد کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ فلسطین کے حامیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے مسائل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔