عید الفطر کے موقع پر پردیسی مزدوروں اور خاندانوں کی گھروں کو واپسی کا سلسلہ زوروں پر ہے، لیکن ٹرانسپورٹ مافیا نے اس موقع کو منافع خوری کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
بس اڈوں اور ریلوے سٹیشنز پر ہجوم بڑھتے ہی ٹرانسپورٹرز نے من مانی کرائے وصول کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے غریب مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مسافروں کے مسائل:
✔ من مانی قیمتیں:
1500 روپے کے بجائے 2500 سے 3000 روپے تک کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ایک پریشان حال مسافر کا کہنا ہے: "یا تو عید گھر جا کر مناؤ، یا ٹرانسپورٹرز کو عید کا تحفہ دو!"
✔ مصنوعی قلت:
بسوں کو اڈوں سے باہر کھڑا کر کے ٹرانسپورٹ کی کمی کا بہانہ بنا کر زیادہ کرایہ لیا جا رہا ہے۔
✔ جان لیوا سفر:
کچھ ٹرانسپورٹرز مسافروں کو بسوں کی چھت پر بٹھا رہے ہیں، جو سنگین حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔
✔ حکومتی خاموشی:
انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔مسافروں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر ٹرانسپورٹ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا مؤقف:
بس مالکان کا دعویٰ ہے کہ وہ حکومت کے مقرر کردہ کرائے ہی وصول کر رہے ہیں، لیکن مسافر اسے محض بہانہ قرار دے رہے ہیں۔
عوامی مطالبہ:
ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔عید کے موقع پر ٹرانسپورٹ نظام کی نگرانی کی جائے۔غریب مسافروں کے لیے ریلیف پیکیجز جاری کیے جائیں۔
نتیجہ: ہر سال کی طرح اس عید پر بھی ٹرانسپورٹ مافیا نے غریبوں کا خون چوس لیا، جبکہ حکومتی مشینری خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔