شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال پر سنگین انکشافات کیے اور پارٹی میں موروثی سیاست اور داخلی تنازعات کا پردہ چاک کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آج کل بیماری کا شکار ہے، اور یہ بیماری عمران خان کی جیل میں جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کی سیاست اور گدی پر قبضے کی کوششوں نے پی ٹی آئی کو اس حال میں پہنچایا ہے۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ جب سے عمران خان جیل گئے ہیں، پارٹی کے فیصلے کس کے ہاتھ میں ہیں، اور کس طرح موروثی سیاست نے سر اٹھایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سلمان اکرم راجہ کو علیمہ خان کی سفارش پر سیکرٹری جنرل بنایا گیا، اور بشری بی بی کی سفارش پر علی امین کو فارغ کیا گیا۔انکشافات میں یہ بھی بتایا گیا کہ مشال یوسفزئی بشری بی بی کی ترجمان تھیں اور ان کی وجہ سے وزیر بنائی گئیں اور پھر بعد میں ہٹائی گئیں۔ شیر افضل مروت نے بتایا کہ بشری بی بی نے مشال یوسفزئی سے ایک بیان دلوایا تھا جس کے بعد مشال کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تین مواقع پر خان کی رہائی کے لیے ڈیل ہوئی اور علی امین نے اس میں کردار ادا کیا، لیکن سوشل میڈیا پر اس پر ردعمل نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔شیر افضل مروت نے یہ بھی بتایا کہ موروثی سیاست کے خلاف اعلان کرنے کے بعد انہیں پارٹی سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، اور جب انہوں نے پی ٹی آئی میں انٹرپارٹی انتخابات کے حوالے سے اعلان کیا تو ان کے بیان کو جھوٹا قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں موروثی سیاست کو دبانے کے لیے انہیں مختلف دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔یہ انکشافات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اندرونی مسائل اور موروثی سیاست نے پارٹی کی وحدت کو متاثر کیا ہے، اور اس صورتحال نے پارٹی کے فیصلہ سازی کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔